خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 163
خطبات طاہر جلد ۸ 163 خطبه جمعه ۱۰ / مارچ ۱۹۸۹ء زندگی کے حالات پر غور کرنے کے بعد جب اپنا جائزہ لیا تو اسی نتیجے تک پہنچا تھا کہ انسان دراصل جتنے گناہ کر سکتا ہے اس سے بہت زیادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔چنانچہ اس مضمون کو اس نے اس طرح باندھا کہ نہ کردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد یا رب! اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے (دیوان غالب صفحه : ۳۴۶) اے خدا جو گناہ میں نے کئے ہیں جن کی تو مجھے سزا دینے والا ہے یہ تو کچھ بھی نہیں۔نہ کردہ گناہوں کی حسرتیں اگر شامل کر لی جائیں تو بے انتہا گناہ بن جاتے ہیں اور یہ محض شاعری نہیں ہے یہ صاحب بصیرت کی گہری نگاہ ہے انسانی اعمال پر۔غالب میں اگر بعض کمزوریاں نہ ہوتیں تو وہ خود کہتا ہے اور خود اس بات کا شعور رکھتا تھا کہ یہ مسائل تصوف ، یہ ترا بیان ، غالب تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا ( دیوان غالب صفحه :۵۰) تو واقعہ جب وہ یہ باتیں بیان کرتا ہے تو گہری سوچ اور فکر کے نتیجے میں اس میں بعض انسانی فطرت کے راز ہیں اور یہ محض شاعری نہیں ہے یہ مسائل تصوف ہیں۔پس آپ بھی اپنی زندگیوں پر غور کر کے دیکھیں گے تو آپ حیران رہ جائیں گے یہ معلوم کر کے کہ ہم میں سے اکثر کی اکثر زندگی گناہوں کی حسرتوں اور تمناؤں میں کٹ گئی ہے اور ہم سمجھ یہ رہے ہیں کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ہم گناہ نہ کریں۔جو لوگ بالا رادہ کوشش کرتے ہیں ان کی کوششوں کو کامیاب کیا جاتا ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے۔حقیقت میں بندے کا کام ہی نہیں ہے کہ وہ بے گناہ اور معصوم ہو جائے اس کی ذمہ داری کوشش سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی اور اسی حد تک اس پر ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔پس اس روحانی عظیم وقت کے گیٹ میں سے جب ہم گزرنے والے ہیں تو اس پہلو سے بھی ہمیں اپنے حالات پر اپنے گرد و پیش پر نظر ڈالنی چاہئے اور اپنی امنگوں کا بھی جائزہ لینا چاہئے ، اپنی خواہشات کا جائزہ لینا چاہئے ، اپنی حسرتوں کا جائزہ لینا چاہئے ، روزمرہ کی زندگی میں جو طلب پیدا