خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 165
خطبات طاہر جلد ۸ 165 خطبه جمعه ۱۰/ مارچ ۱۹۸۹ء نماز سے محروم کبھی نہیں کرنا۔تمہاری ایک نمازگئی تو ہزاروں نمازیں ملیں گی۔پس یہ معرفت ہے جو جوں جوں ترقی کرتی چلی جاتی ہے نیکی سے ذاتی تعلق اور محبت بڑھتے چلے جاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پھر خدا تعالیٰ نیکیوں کی توفیق بڑھانا ہے اور جو نیکیاں نہ کرنے کی حسرتیں ہیں پھر ان کا ثواب ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ہمارا خدا ایک بے انتہا رحم کرنے والا ، بے انتہا بخشش کرنے والا ، بار بار بخششیں کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا خدا ہے۔یہ وہ خدا ہے جو نا کردہ گناہوں کی حسرتوں کے باوجود بھی سزا نہیں دیتا مگر یہی خدا ہمارا گواہ ہے کہ نا کردہ نیکیوں کی جزا ضرور دے دیتا ہے اگر ان کی حسرتیں رہ جائیں۔تو وقت تھوڑا ہے ہم نیکیاں تو زیادہ نہیں کر سکتے مگر نیکیاں نہ کرنے کی حسرتیں لے کر اس گیٹ میں داخل ہوں گے۔تو میں خدا کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ وہ ایسا غفور رحیم خدا ہے اور بے انتہا رحم کرنے والا ہے کہ وہ آپ کی ساری زندگی برکتوں سے بھر دے گا اور ان نیکیوں کی بھی آپ کو جزا دے گا جن کی حسرتیں لے کر آپ اگلی صدی میں داخل ہو رہے ہوں گے۔پس اپنی نیکیوں کی اُمنگوں کو بڑھالیں، خواہشوں کو بڑھا لیں۔یہ تمنائیں کریں کہ کاش ہماری اولاد ہماری ساری نیکیاں لے کر بڑی ہو اور ایک بھی بدی ہم ان کو ورثے کے طور پر نہ دیں اور اس کے لئے کوشش شروع کر دیں کیونکہ ان نیکیوں کی حسرتوں کو جزا املا کرتی ہے جن کے لئے انسان کوشش ضرور کرتا ہے خواہ وہ اس کوشش میں کامیاب ہو سکے یا نہ ہو سکے۔کیونکہ فرضی باتیں خدا تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہوتیں۔پس اس پہلو سے آپ اپنی اولاد، در اولاد، در اولاد، در اولاد کو شامل کرلیں اور یہ وصیت کرنی شروع کریں اپنی اولاد کو جس طرح حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل اپنی اولاد کو وصیت کیا کرتے تھے کہ دیکھوتم آئندہ وصیت کرتے چلے جاؤ کہ ان بدیوں سے بچنا ہے اور ان نیکیوں کو اختیار کرنا ہے اور توحید کے سوا اور کوئی مذہب اختیار نہیں کرنا۔تو اس طرح آئندہ ساری نسل تک کم سے کم ایک سوسال تک آپ کو ان سب نیکیوں کی جزا ملتی رہے گی جن کی آپ حسرتیں رکھتے ہیں کہ کاش ہم خودان نیکیوں کو قائم کر سکتے۔چونکہ آپ سنجیدہ ہیں، چونکہ آپ مخلص ہیں، چونکہ آپ متقی ہیں۔واقعہ یہ چاہتے ہیں اس لئے ان نا کردہ نیکیوں کی آپ کو جزا ضرور ملے گی۔پس جب یہ سودے ہو رہے ہیں تو پھر اپنی مانگ کو بڑھا ئیں اور اونچا کریں۔بڑے آدمیوں سے چھوٹی چیز نہیں مانگنی چاہئے اور خدا تعالیٰ کی رحمت کا تو کوئی حساب ہی نہیں ہے۔اس کی تو کوئی حد نہیں ہے اس لئے اب وقت کے لحاظ سے بہت