خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 156 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 156

خطبات طاہر جلد ۸ 156 خطبه جمعه ۱۰/ مارچ ۱۹۸۹ء قافلہ گزرنے والا ہو۔وقت کا ویسے تو کوئی گیٹ نہیں ہوا کرتا لیکن تصور میں انسان اپنے روز مرہ کے تجربوں سے انہی اصطلاحوں میں سوچ لیتا ہے۔تو مجھے بھی اس طرح سوچتے ہوئے یہ محسوس ہوا کہ جیسے بہت ہی عظیم الشان گیٹ ہے جس میں سے احمدیت کا یہ عظیم قافلہ گزرنے والا ہے اور یہ اب چند قدم کے فاصلے پر رہ گیا ہے۔اس اہم موقع پر جس طرح احمدی اپنے آپ کو سجانے کی کوشش کر رہے ہیں اس بات کے متعلق مجھے ہر طرف سے خط آ رہے ہیں اور دنیا کے ہر ملک سے خط آ رہے ہیں۔کسی نے کوئی عہد باندھا ہے، کسی نے کوئی کسی نے بعض اپنی برائیاں دور کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کسی نے بعض خوبیاں اپنانے کا فیصلہ کیا ہے غرضیکہ ہر ایک اپنے اپنے رنگ میں، اپنے اپنے حالات کے مطابق سجاوٹ کی کوشش کر رہا ہے۔اس پر میرا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ جب دنیا میں عظیم الشان بادشاہ بعض عظیم الشان بادشاہوں کے مہمان بنتے ہیں تو سارے ملک میں ایک ہیجان برپا ہو جاتا ہے اور بہت بڑے بڑے گیٹ لگائے جاتے ہیں اُن بادشاہوں کے استقبال کے لئے اور جولوگ اُن بادشاہوں کے ساتھ داخل ہوتے ہیں وہ بھی بن سج کر داخل ہوتے ہیں اور وہ گیٹ بھی بڑے خوبصورت اور بڑے عظیم الشان ہوتے ہیں جو ان بادشاہوں کے استقبال کے لئے بنائے جاتے ہیں۔پھر اسی طرح چھوٹے پیمانے پر جب کوئی بڑا مہمان کسی شہر میں داخل ہو تو شہروں کے سامنے بھی گیٹ لگائے جاتے ہیں اور اُن کو سجایا جاتا ہے اور داخل ہونے والے بھی جہاں تک توفیق پاتے ہیں بن سج کر ہی اُن گیٹوں سے گزرتے ہیں۔پھر باراتی ہیں خواہ وہ غریب کے گھر آئیں ، خواہ وہ امیر کے گھر آئیں اُن کا بھی اسی طرح استقبال کیا جاتا ہے۔امیر آدمی زیادہ قیمتی ، زیادہ بڑے، زیادہ بجلی کے قمقموں سے روشن گیٹ لگا لیتے ہیں اور غریب آدمی اگر اور کچھ میسر نہیں تو ایک کیلے کا تنا کاٹ کر یا مانگ کر اُسی سے اپنے گیٹ بنالیا کرتے ہیں اور اسی طرح باراتوں کا حال ہے۔امیروں کی باراتیں زیادہ سج کے گزرتی ہیں اور غرباء کی باراتیں نسبتاً کم سج کے گزرتی ہیں لیکن سجاوٹ کا تصور گیٹوں میں داخل ہونے کے ساتھ اس طرح منسلک ہے کہ ایک تصور سے دوسرا تصور خود بخود پیدا ہوتا ہے۔جماعت احمد یہ جس گیٹ میں داخل ہونے والی ہے وہاں تو ابھی ہماری پہنچ ہی نہیں ہے ، وقت کے لحاظ سے بھی ہماری پہنچ نہیں اور اس لحاظ سے بھی کہ وہ ایک تصوراتی گیٹ ہے ہم آگے بڑھ کر اُسے سجا نہیں سکتے اگر وقت