خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 157
خطبات طاہر جلد ۸ 157 خطبه جمعه ۱۰/ مارچ ۱۹۸۹ء سے پہلے پہنچ کر خود اپنے استقبال کی تیاری کی کوشش کریں تب بھی ہمیں علم نہیں ، ہماری استطاعت نہیں ہے کہ اس تصوراتی اور نظریاتی گیٹ کو کیسے سجائیں گے؟ اس موضوع پر غور کرتے ہوئے قرآن کریم کی ایک آیت میرے ذہن میں آئی جس میں خدا تعالیٰ نے اسی قسم کا ایک نقشہ کھینچا ہوا ہے۔جہاں فرمایا کہ خُذُوا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف :۳۲) کہ اے مومنو! تم ہر مسجد میں اپنی زینت خود ساتھ لے کر جایا کرو اور جہاں تک مسجدوں کا تعلق ہے قرآن کریم میں کوئی آیت بھی ایسی نظر نہیں آتی جس میں مسجدوں کے سجانے کا ذکر ہو۔اُن کے پاک اور صاف رکھنے کا تو ذکر ہے لیکن اُن کے سجانے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔تو بظاہر یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ان دونوں باتوں میں توازن نہیں ہے کہ مہمان تو تم ہو خدا کے گھر آرہے ہو لیکن زمینیں اپنی ساتھ لے کے آنا اور یہی تمہارا استقبال ہوگا اور یہی تمہاری سجاوٹ ہو گی۔پھر جب میں نے مزید اس مسئلہ پر غور کیا تو قرآن کریم کی اس آیت کے نتیجے میں یہ گتھی سلجھی اور مجھ پر حقیقت روشن ہوئی کہ قرآن کریم ہمیں کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟ مسجدوں کا ایک ظاہر ہے وہ ظاہر اگر سجایا جائے تو ہر کس و ناکس کے لئے برابر سجاوٹ ہوگی۔ایک بد کار آدمی بھی مسجد میں داخل ہوتا ہے اور ایک پاکباز آدمی بھی داخل ہوتا ہے۔ایک ایسا انسان بھی داخل ہوتا ہے جس نے اپنے اعمال صالحہ کے ساتھ بد اعمالیوں کو بھی شامل کیا ہوا ہے اور ایک ایسا بھی داخل ہوتا ہے جو خدا کی نظر میں صالح ٹھہرتا ہے۔پھر ایک شہید بھی ایسی مسجد میں داخل ہوتا ہے، ایک صدیق بھی ایسی مسجد میں داخل ہوتا ہے اور بسا اوقات ایک نبی بھی ایسی مسجد میں داخل ہورہا ہوتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ نے ظاہری سجاوٹ کو استقبال کی نشانی بنایا ہوتا تو وہ ظاہری سجاوٹ تو ہر کس و ناکس کے لئے ، ہر بڑے اور چھوٹے کے لئے ، ہر متقی اور غیر متقی کے لئے ایک قدر مشترک بن جاتی۔گویا سب کا ایک ہی طرح استقبال ہو رہا ہے۔انسان کو تو مجبوری ہے وہ تو فرق نہیں کر سکتا وہ تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ بارات میں صرف دو یا ایک اس گیٹ سے داخل ہو اور باقی سب لوگ حسب مراتب نسبتاً چھوٹے چھوٹے گیٹوں سے داخل ہوں اور جو بیچارے ساتھ ملازم ہیں اُن کے لئے گندے، جھونپڑیوں کے تنکوں کے گیٹ بنائے جائیں ایسا تو کوئی نہیں کر سکتا انسان نہ ایسی بات انسان کو زیب دیتی ہے لیکن خدا تعالیٰ یہ فرق کرنا چاہتا تھا۔خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ سمجھایا کہ یہ تصوراتی اور نظریاتی گیٹ اور یہ سجاوٹیں جو مسجدوں میں لگائی جاتی ہیں یہ تمہارے بس سے باہر ہیں تمہارے