خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 150
خطبات طاہر جلد ۸ 150 خطبه جمعه ۳ / مارچ ۱۹۸۹ء ترین حملوں کے مقابل پر بھی اکٹھے ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔پس ایک ایسی عالمی مشاورت کے بلانے کی ضرورت ہے۔جو خواہ مکہ یا مدینہ میں بلائی جائے یا اسلام آباد پاکستان میں بلائی جائے یا ایران میں بلائی جائے یا دنیا کے کسی اور خطے میں بلائی جائے۔کوئی بلانے والا ہو اور کوئی وہ مقام ہو جہاں اکٹھا ہونے کی دعوت دی جائے۔آج خدا اور محمد مصطفی ﷺ کی غیرت کا تقاضا ہے کہ تمام عالم اسلام لبیک لبیک کہتے ہوئے اس مقام پر اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے اکٹھا ہو جائے اور یہ فیصلہ کرے کہ کس طرح ہم نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی حرمت اور عزت کا دفاع کرنا ہے اور اس راہ میں جو بھی تعلیم قرآن کریم نے ہمیں دی ہے اس تعلیم کے اندر رہتے ہوئے دفاع کرنا ہے اس سے ایک قدم با ہر نکال کر دفاع نہیں کرنا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے قرآن کریم کی تعلیم نہایت جامع اور مانع ہے۔اس رنگ میں آپ کو دفاع کی ہدایت دیتی ہے کہ دشمن نے جو ہتھیار اپنا رکھے ہیں وہ دشمن کے ہاتھ سے چھینے جائیں گے۔جس طرح تلواروں کے مقابلے میں بعض تلوار کے دھنی اس طرح حملہ کرتے ہیں کہ دشمن کے ہاتھ کی تلوار ہاتھ سے چھنک کر گر جایا کرتی ہے۔یہ رائے عامہ کی جو تلوار انہوں نے اٹھارکھی ہے اگر آپ قرآنی حکمت کے دائروں میں رہتے ہوئے جوابی کارروائی کریں تو ان کے ہاتھ کی یہ تلوار جھنک کر گر جائے گی۔آپ آج نسبتے نظر آتے ہیں، قرآن کی طاقت سے یہ تلوار آپ کے ہاتھ میں تھمائی جائے گی اور دنیا کی ساری رائے عامہ کو آپ مرعوب اور مجبور کر سکتے ہیں یہ بات ماننے پر کہ اسلام مظلوم ہے اور اسلام کے خلاف جو دشمن حملہ آور ہیں ان کو ان حملوں کا کوئی حق نہیں ہے۔اسلامی تعلیم کے اندر رہنے میں ہی ساری عالم اسلام کی طاقت ہے لیکن اسلامی تعلیم سے باہر نکل کر اور بکھر کر انفرادی طور پر وہ جوابی کارروائیاں کرنا جن کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔یہ جوابی کارروائیاں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ایسی جوابی کارروائیوں سے دشمن کو مزید اور پھر مزید اور پھر مزید طاقت ملتی چلی جائے گی اور آپ اور زیادہ دُنیا میں خود بھی بدنام ہوں گے اور اسلام کو بھی بدنام کریں گے اور قرآن کو بھی بدنام کریں گے اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا بھی بدنامی کا موجب بنیں گے۔اس لئے قرآن ایک جامع مانع کتاب ہے ایک کامل شریعت ہے۔ایک اتمام نعمت ہے۔اس کامل شریعت