خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 149
خطبات طاہر جلد ۸ 149 خطبه جمعه ۳ / مارچ ۱۹۸۹ء تو ہم اس معاملے میں خمینی کے ساتھ ہوں گے کیونکہ اگر سیاست کی جنگ ہے یہ تو پھر سیاسی طور پر ہماری دنیا، مسلمانوں کی دنیا سے الگ نہیں کی جاسکتی اور اگر یہ مذہبی حملہ ہے تو مذہبی طور پر ہم ویسے ہی مسلمان ہیں تم جانتے ہو۔اسلام کی غیرت ہمیں ایسی جگہ اکٹھے کئے ہوئے ہے جہاں سے ہم کسی قیمت پر الگ نہیں کئے جاسکتے۔مگر افسوس کہ اس معاملے میں بعض عرب ممالک نے نہایت ہی نامناسب رد عمل کا اظہار کیا ہے۔اس سے مجھے یہ واقعہ یاد آ گیا کہ تاریخ اسلام میں سنہری حروف سے لکھنے کے لائق ہے۔ایک موقع پر شام کے شمال کی طرف سے ( مجھے اب معین یاد نہیں کہ کس سرحد سے لیکن شمالی سرحد کی بات ہے ) عیسائی طاقتوں نے حضرت علی کی حکومت پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس زمانے میں امیر معاویہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے درمیان آپس میں شدید اختلافات تھے۔اس لئے اس زمانے کی عیسائی طاقتوں نے یہ سمجھا کہ اگر ہم علی کی حکومت پر حملہ کریں گے تو معاویہ اگر ان کے خلاف ہمارے ساتھ شامل نہ بھی ہو تب بھی ان کے حق میں کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔چنانچہ ایک لمبے عرصے تک مسلمانوں کی شمالی سرحدوں پر مخالفانہ فوجوں کا اجتماع ہوتا رہا۔جب امیر معاویہ گو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے قیصر روم کے نام ایک خط لکھا اور اس خط میں لکھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ علی کی حکومت کو کمزور سمجھتے ہوئے تم نے علی کی حکومت پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور تم یہ سمجھتے ہو کہ معاویہ اور علی کی دشمنی ہے اس لئے معاویہ اس صورت میں علی کی مددکو نہیں آئے گا لیکن خدا کی قسم تمہارا یہ خیال جھوٹا ہے۔یہ عالم اسلام کی غیرت کا معاملہ ہے۔اگر تم نے اس حملے کی جرات کی تو وہ سپاہی جوعلی کی طرف سے لڑنے والے ہوں گے ان میں صف اوّل پر معاویہ کھڑا ہو گا اور معاویہ کی ساری طاقتیں علی کی خدمت میں پیش کر دی جائیں گی۔( تاریخ اسلام حصہ دوم صفحہ ۴۵، ۴۶ مصنفہ مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی) یہ اتنا عظیم الشان خط تھا، اتنا اس کا رُعب طاری ہوا کہ کسی لڑائی کی نوبت نہیں آئی اور دشمن نے فیصلہ کیا کہ وہ عالم اسلام جو اپنے سیاسی مقاصد میں اور مذہبی مقاصد میں اس طرح متحد ہونے کی طاقت رکھتا ہے اس پر کوئی حملہ کا میاب نہیں ہوسکتا۔آج افسوس ہے کہ تاریخ کے اس سنہری باب کو بھلایا جا رہا ہے۔آج مسلمانوں کی اندرونی دشمنیاں اس بات کی راہ میں حائل ہو رہی ہیں کہ اسلام کے خلاف شدید ترین اور غلیظ