خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 151
خطبات طاہر جلد ۸ 151 خطبه جمعه ۳ / مارچ ۱۹۸۹ء سے ، اس اتمام نعمت سے فائدہ اٹھائیں اور قرآنی تعلیم کے حدود کے اندر رہتے ہوئے قرآنی ہتھیاروں کو ہاتھوں میں تھام کر آج اپنی غیرت کا مظاہرہ کریں۔بعض عیسائی پادریوں نے جن میں شرافت کا بیج ہے اور شرافت کی خوبو ہے انہوں نے یہاں تک اعلان کیا ہے کہ ہم پنگون سیریز Panguin Series کی آئندہ کوئی کتاب بھی کبھی نہیں خریدیں گے۔یہ ایسا گندا اور ناپاک حملہ ہے۔اس حملے کے دفاع میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آزادی ضمیر کے حق کو استعمال کیا گیا۔آزادی ضمیر کے حق کا ناجائز اور نہایت ناپاک اور بہیمانہ استعمال کیا گیا ہے۔اس لئے آزادی ضمیر کے حق کو تلوار سے تو نہ کاٹیں لیکن اس حق کو پامال کرنے والے کو اس طرح دنیا کے سامنے ننگا کر دیں اور اس طرح اس کی خامیوں کو اچھال کر دنیا کے سامنے پیش کر دیں کہ بجائے اس کے کہ وہ معصوموں پر داغ لگا سکے اس کے جسم کا ، اس کے دل کا ، اس کی فطرت کا داغ داغ دنیا کے سامنے ننگا ہوکر باہر آ جائے۔سیہ وہ طریق ہے جس کے مطابق عالم اسلام کو جوابی کارروائی کرنی چاہئے اور میں امید رکھتا ہوں کہ احمدی جہاں جہاں بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں وہ ساری صورتحال کو جس طرح میں آپ کو سمجھا رہا ہوں اور کھول کھول کر قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں دنیا کے سامنے کھول کر پیش کریں گے اور جہاں جہاں حکومتوں میں کسی جگہ بھی احمدیوں کا اثر اور نفوذ ہے کسی رنگ میں بعض ایسے بھی احمدی ہیں جو سعودی عرب میں بڑے ڈاکٹر ہیں، سرجن ہیں اور کیونکہ چھوٹے پاکستانی مُلاں کی نگاہ وہاں تک نہیں اس لئے وہاں وہ کام کر رہے ہیں اور کیونکہ وہ با اخلاق ہیں اور اپنے فن میں بڑی مہارت رکھتے ہیں اس لئے تمام طاقتور شہزادے ان کی عزت کرتے ہیں۔اس علم کے باوجود کہ وہ احمدی ہیں ان کو کوئی تکلیف نہیں۔یہ خیال نہ کریں کہ آپ کمزوروں کی جماعت ہیں جن کا کوئی اثر نہیں۔احمدی اپنے اخلاق کی طاقت سے، اپنے کردار کی عظمت کی طاقت سے دنیا میں بہت نفوذ رکھتا ہے۔امریکہ میں بھی بڑے بڑے لوگوں پر احمدی اپنے اخلاق اور کردار کی طاقت سے نفوذ رکھتے ہیں اور اثر رکھتے ہیں اور اسی طرح دنیا کی بڑی بڑی حکومتوں میں جہاں احمدیوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اس کا بھی سوواں حصہ ہو گی وہاں بھی بعض احمدی اپنی عظمت کردار کی وجہ سے ایک اثر رکھتے ہیں۔تو اس سارے اثر کو اسلام کے حق میں اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے حق میں استعمال کریں اور دنیا میں ایک شور مچا دیں وہ شور جو ان کی آوازوں کو مزید بلند کرنے کا موجب نہ بنیں بلکہ ان کی