خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 10 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 10

خطبات طاہر جلد ۸ 10 خطبه جمعه ۶ /جنوری ۱۹۸۹ء بڑا ظلم ہوگا کہ الہ تعالی تولا حد و فضل کرنے والا ہواور ہم اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے اس کے فضلوں کے ہاتھ روک رہے ہوں اور اُن کو محدود کر رہے ہوں۔اس لئے اب یہ دعا کرنی چاہئے کہ جو کوتاہیاں ہم سے ہو گئیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اُن کے اوپرستاری کا پردہ ڈال دے اور ہماری غفلتوں کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے نیکیوں کے طور پر شمار کر لے اور ہماری استعدادوں کو بھی بڑھائے اور ہمیں اپنی استعدادوں تک پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہاں تک کہ نیکی کے ہر میدان میں ہم اُس کنارے تک پہنچ جائیں جس کے آگے ہماری بشریت کی حد کے لحاظ سے بڑھنا ممکن نہ رہے اور پھر ہم خدا کے لا انتہا فضلوں کے وارث بنتے چلے جائیں اور آئندہ صدیاں ہماری ان قربانیوں کے لا انتہا پھل کھاتی چلی جائیں۔ہم نے پہلوں کی محنت کے پھل کھائے ہیں اس کو یا درکھیں اور اُن کو اپنی دعاؤں میں نہ بھلا ئیں اور ہماری محنت کے پھل آئندہ نسلیں کھائیں گی اور اگر آپ پہلی نسلوں سے یہ سلوک کریں گے کہ اُن کے سامنے اپنی ممنونیت کا سر جھکائیں گے اور اپنے دل میں سوز و گداز کے ساتھ اپنی دلی دعاؤں میں ان کو یا درکھیں گے تو یا درکھیں کہ پھر آئندہ نسلیں بھی آپ سے ایسا ہی سلوک کریں گی۔پس یہ جو بقیہ دو ماہ سترہ دن اس صدی کے باقی ہیں اُن کو خصوصیت کے ساتھ ان دعاؤں میں وقف کریں اور اپنے حالات کو ٹولیں ، اپنے دلوں کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کہاں کہاں کس حد تک کمی رہ گئی ہے۔اصلاح نفس کے لحاظ سے جو تربیت کا مجاہدہ ہم کر رہے ہیں اُس کے لحاظ سے اور خدا کی راہ مین قربانیاں پیش کرنے کے لحاظ سے اور دعایہ کریں کہ خدا ان دو ماہ سترہ دنوں میں اتنی برکت ڈال دے کہ وقت کے پیمانے کے لحاظ سے نہیں بلکہ فضل کے پیمانے کے لحاظ سے ہمیں عمل کی توفیق عطا ہو اور اللہ تعالیٰ اُس عمل کو قبول کرتے ہوئے ہماری جزاؤں کو لا انتہا کر دے۔اس مختصر تعارف کے بعد اب اسی مضمون کی روشنی میں میں وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کرتا ہوں۔آپ کو جیسا کہ معلوم ہے کہ وقف جدید پہلے صرف پاکستان اور ہندوستان کی حد تک محدود تحریک تھی لیکن گزشتہ تقریباً تین سال کا عرصہ ہوا اسے ساری دنیا میں پھیلا دیا گیا ہے اور اگر چہ بعض ممالک ایسے ہیں جہاں وقف جدید کا چندہ وہیں خرچ کیا جاتا ہے۔انہی ممالک میں مثلاً افریقہ کے ممالک اور بعض اور دوسرے ممالک ہیں مگر ترقی یافتہ ممالک کا وقف جدید کا چندہ زیادہ تر