خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 9

خطبات طاہر جلد ۸ خطبہ جمعہ ۶ /جنوری ۱۹۸۹ء حد تک پہنچ جائیں اور اُس کے آگے بڑھنا آپ کے لئے اس لئے ممکن نہ ہو کہ آپ کی استعدادوں میں اُس سے آگے بڑھنا ممکن نہیں۔وہاں سے فضل کا مضمون شروع ہوتا ہے اور وہاں سے بے حساب کا مضمون شروع ہوتا ہے۔پس اس لئے میں نے کہا تھا کہ آپ اپنا حساب پورا کر لیں جتنی توفیق ہے، جتنی استطاعت ہے وہ سب کچھ اگر آپ خدا کی راہ میں پیش کردیں اور ایک ایسا مقام دیکھیں کہ جن سے آگے آپ بڑھ نہیں سکتے۔وہاں پھر آپ کی نیکیوں کی حسرتیں باقی رہ جائیں گی وہاں خواہشیں ہیں جو دل میں کلبلا ئیں گی اور بے چین کریں گی کہ کاش ہم اس سے بھی زیادہ کر سکتے۔اس حد سے آگے پھر آپ کے عمل کی حد ختم ہو جاتی ہے اور خدا کے لامحدود فضلوں کی حد شروع ہو جاتی ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی میلے سے اللہ تعالیٰ نے جو لا محدود فضلوں کا سلوک فرمایا ہے۔ایک جاہل دنیا دار یہ کہہ سکتا ہے کہ اُس کی مرضی تھی اُس نے جس طرح چاہا اُن کو بڑھا دیا اور اس میں اُس کا Arbitrary فیصلہ ہے یعنی بغیر کسی استحقاق کے بغیر کسی وجہ کے۔دنیا کے لحاظ سے یہ بھی بات درست نظر آتی ہے۔مگر امر واقعہ اس سے مختلف ہے۔خدا تعالیٰ کے ہر احسان کے اندر عدل کا مضمون پایا جاتا ہے اور اس پہلو سے حضرت اقدس محمد مصطفی ملے سے یا آپ کی غلامی میں کسی اور شخص سے جب آپ خدا تعالیٰ کا لامحدود فضلوں کا سلوک دیکھتے ہیں تو یقین کریں کہ اُس شخص کی قربانیوں کی ایک ایسی حد پہنچی تھی جس سے آگے اُس کی تمنا ئیں رہ گئیں تھیں اور حسرتیں رہ گئیں تھیں اور خدا نے جو اُس کو استعدادیں عطا کی تھیں اُن میں توفیق نہیں تھی کہ اُس سے آگے بڑھ سکے۔تب خدا کے فضل نے وہاں سے اُس کا ہاتھ پکڑا ہے اور پھر اُس کو لا محدود فضلوں کی دنیا میں پہنچادیا ہے۔معراج محمد مصطفی ﷺ میں ہمیں یہی مضمون ملتا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ہو نے بشریت کی حدود کو آخری مقام تک کوشش کی ہے۔اُس سے بالا کوئی مقام نہیں ہے بشریت کے لئے جس حد تک ممکن تھا سب کچھ خدا کی راہ میں دیا ہے۔یہاں تک کہ اس کے بعد پھر خدارہ جاتا ہے باقی اور بشریت کی تمام طاقتیں ختم ہو جاتی ہیں اور کوتاہ ہو جاتی ہیں مگر وہاں ٹھہرے نہیں ہیں وہاں تعلق باللہ کا ایک نیا مضمون شروع ہوا ہے جو لا محدود ہے پھر اُس تک عام انسان کی نظر اور اُس کا فہم اور اُس کا ادراک پہنچ ہی نہیں سکتے لیکن روزمرہ کی زندگی میں ہر انسان کو کسی نہ کسی پہلو سے یہ تجربے ہو سکتے ہیں اس لئے جماعت احمدیہ کو اپنے ایسے خدا سے تعلق جوڑتے ہوئے اس تعلق کو محدود نہیں رکھنا چاہئے۔