خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 11 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 11

خطبات طاہر جلد ۸ 11 خطبہ جمعہ ۶ /جنوری ۱۹۸۹ء ہندوستان میں خرچ کے لئے وقف۔ہے۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مسلسل جماعت وقف جدید کے لحاظ سے قربانی میں آگے بڑھتی چلی جارہی ہے۔۱۹۸۴ء میں وعدوں کے متعلق تو یہاں ذکر نہیں لیکن وصولی سترہ لاکھ پندرہ ہزار بہتر روپے تھی۔۱۹۸۵ء میں بیس لاکھ چوالیس ہزار ہوئی۔۱۹۸۶ء میں تئیس لاکھ بانوے ہزار۔۱۹۸۷ء میں اٹھائیس لاکھ اکسٹھ ہزار اور ۱۹۸۸ء میں ان کا خیال ہے کہ انشاء اللہ اکتیس لاکھ سے بڑھ جائے گی یعنی کل آمد بڑھ جائے گی اُس تاریخ تک جب یہ رپورٹ بھجوائی گئی پچیس لاکھ پچاسی ہزار روپے وصولی تھی۔وقف جدید کا سال اگر چہ دسمبر میں ختم ہوتا ہے لیکن وصولی جو گزشتہ سال کی ہے وہ اگلے ایک دو ماہ تک آتی چلی جاتی ہے اور دسمبر کے آخر پر پہلے چونکہ جلسہ سالا نہ ہوا کرتا تھا اس لئے سب سے زیادہ ہوا کرتی تھی۔اب یہ Peak وہاں سے تبدیل ہوکر جنوری میں داخل ہو گئی ہے یعنی سب سے زیادہ وصولی چونکہ اب ڈاک کے ذریعہ آتی ہے اس لئے عموماً سال کے آخر پر جماعتیں جب حساب سمیٹتی ہیں تو زیادہ تر رقمیں جنوری میں داخل کرتی ہیں۔جو گزشتہ میرا تجربہ ہے اور مجھے خدا تعالیٰ کے فضل سے تقریباً جو بیس سال وقف جدید میں خدمت کی توفیق ملی ہے ، وہ یہی ہے کہ بعض دفعہ میں فیصد تک ، پچیس فیصد تک بھی آخری ایک دو ماہ میں گزشتہ سال کا چندہ وصول ہوتا ہے تو میں اُمید رکھتا ہوں کہ جس رفتار سے اللہ تعالیٰ پاکستان کی جماعتوں کو آگے قدم بڑھانے کی توفیق عطا فرما رہا ہے۔اس سال بھی ویسا ہی سلوک فرمائے گا اور ہمیشہ پہلے سے بڑھ کر آگے قدم بڑھانے کی توفیق عطا فرما تارہے گا۔دعا کی تحریک کے طور پر عموماً ان جماعتوں کے نام سنائے جاتے ہیں جنہوں نے مالی قربانی میں غیر معمولی حصہ لیا ہے۔دفتر اطفال کا جہاں تک تعلق ہے جس ترتیب سے میں یہ نام سناؤں گا اُسی ترتیب سے خدا تعالیٰ کے فضل سے اطفال کے چندہ میں ان جماعتوں کو غیر معمولی قربانی کی توفیق ملی ہے۔ربوہ سرفہرست ہے پھر بدین، پھر سانگھڑ، پھر سکھر، پھر خیر پور، رحیم یارخان ،مظفر گڑھ ، راجن پور، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ ، سرگودھا، چکوال، راولپنڈی، اسلام آباد اور اٹک۔جہاں تک عام چندہ وقف جدید کا تعلق ہے اُس میں اس فہرست کی ترتیب حسب ذیل ہے: ربوہ پھر سر فہرست ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے، پھر کراچی، پھر حیدر آباد، پھر تھر پارکر، سانگھڑ ، خیر پور،