خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 126
خطبات طاہر جلد ۸ 126 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء پریس انٹرو یولیا گیا اور وہاں اور یہاں میں ایک فرق میں نے یہ دیکھا۔یہاں آج کل اسلام کے حق میں معقول باتیں اور سمجھانے کی باتیں کی جائیں تو اُن کو پریس والے شائع ہی نہیں کرتے۔اور ہالینڈ اس لحاظ سے بالکل آزاد تھا۔اُنہوں نے نہایت عمدگی اور دیانتداری سے اس انٹرویو کو ریڈیو میں بھی مشتہر کیا اور اخبارات میں بھی شائع کیا اور انہوں نے بتایا کہ کیا ہمیں اعتراض ہے، کیوں اعتراض ہے، کیا کرنا چاہئے؟ میں نے اُن سے کہا کہ تم لوگ زبان کی آزادی کے علمبرار ہو۔کیا تمہاری آزاد زبان ایک بیہودہ بات کو رد کرنے کے لئے استعمال نہیں ہو سکتی تھی ؟ اس پہ کیا قدغن لگی تھی ؟ کیوں تمہارے سیاسی راہنماؤں نے ، کیوں تمہارے دانشوروں نے اُس ظالم انسان کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا اور اُسے رد نہیں کیا اور کیوں اپنے عوام الناس کے سامنے تم نے یہ بات نہیں اُٹھائی کہ مسلمانوں کے دل بڑے حساس ہیں اس معاملے میں اور یہ شرافت کی اقدار کے خلاف بات ہے کہ ایسے لغو حملے کسی بزرگ کے متعلق کرنا جس کے اوپر قوم کے لکھوکھہا انسان جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اور کروڑہا ہیں جو جانیں قربان کرنے کا دعویٰ تو ضرور کرتے ہیں لیکن لازما لکھوکھا ایسے ہیں جو عملاً ہنستے ہوئے اپنی جان فدا کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔یہ آگ سے کھیلنے والی بات ہے اس کو سمجھو۔تمہارے تعلقات ہیں عالمی تعلقات مسلمانوں سے اُن کو نقصان نہ پہنچاؤ۔اگر شرافت کی خاطر نہیں تو اپنے مفاد کی خاطر اور عقلی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے تم اپنے طرز عمل کو تبدیل کرو اس قسم کی نصیحت کی باتیں کچھ رشدی کے خلاف باتیں کی ہوتیں اور عالم اسلام کو آپ یہ کہتے کہ ہمارے قانون سر دست ہمیں مجبور کر رہے ہیں کہ ہم اس کتاب کو بین (Ban) نہ کریں۔عالم اسلام کارد عمل نسبتاً زیادہ سلجھا ہوا ہوتا اور رشدی کی کتاب کے خلاف عیسائی دنیا سے باتیں سُن کر کچھ تو ان کے دل ٹھنڈے ہوتے لیکن یہاں آزادی زبان استعمال نہیں کی اور غلاظت کو تقویت دینے میں آزادی تقریر کی باتیں ہورہیں ہیں۔جس طرف بھی دیکھیں ایک غلط رد عمل ہے جس نے صورتحال کو انتہائی بھیا نک بنا دیا ہے۔مسلمانوں کے غلط رد عمل نے اتنا نقصان پہنچایا ہے اسلام کو کہ یہ کتاب اپنی ذات میں کبھی بھی اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی۔کتابوں کو جلایا گیا، بھنگڑے ڈالے گئے ، گالیاں دی گئیں۔اس کے نتیجے میں یہ لوگ اس تاریخی پس منظر میں کہ اسلام جہاد کی تعلیم دیتا ہے، غیر کوقتل کرنے کی تعلیم دیتا ہے غلط افسانے اپنے ذہنوں میں بنا بیٹھے۔یہاں انگلستان میں عامۃ الناس سے آپ بات کر