خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 127
خطبات طاہر جلد ۸ 127 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء۔کے دیکھیں تو آپ حیران ہوں گے اُن کا یہ تصور ہے کہ اسلام مسلمان یہاں اب ہر غیر کی گردن کاٹنے کے لئے تیار بیٹھا ہوا ہے اور ہماری سوسائٹی میں بدامنی پھیل جائے گی اور عذاب نازل ہو جائے گا اور ہم برداشت نہیں کر سکیں گے حالانکہ کل ایک ملین کی تعداد ہے مسلمان کی اور ان کا جوش جتنی تیزی سے اُٹھتا ہے بد قسمتی سے اُسی تیزی سے بیٹھ بھی جاتا ہے۔صرف دائم رہنے والی نفرتیں پیچھے چھوڑ رہے ہیں اور اسلام کے حق میں کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے لیکن اس سے بہت زیادہ نقصان یہ پہنچا ہے کہ وہ کتاب جو اپنی ذات میں شدید پراپیگنڈے کے باوجود بھی مقبول نہیں ہو رہی تھی اور بعض ممالک اس کو رد کر چکے تھے، انگلستان اس کو رد کر چکا تھا بغیر کسی احتجاج کے، جاپان اس کو رد کر چکا تھا بغیر کسی احتجاج کے۔انہوں نے کہا ہم ہرگز اس کا ترجمہ اپنے ملک میں شائع نہیں ہونے دیں گے اور اس کتاب کے خلاف قومی طور پر ایسے محرکات تھے جن کے نتیجے میں بعض حکومتیں اس کو اپنے ملک میں شائع کرنے سے خوف کھا رہی تھیں۔چند لوگ پڑھتے اور کچھ دیر کے بعد کتاب ملک میں غائب ہو جاتی ، گر جاتی۔نہایت فضول قسم کی کتاب ہے۔شریف لوگوں کو زیادہ اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن اب اتنی دلچسپی پیدا ہو رہی ہے کہ کروڑ ہا مغربی دنیا کا انسان اس کتاب کو لینے کے لئے ترس رہا ہے۔پورا زور لگا رہے ہیں کہ کسی طرح وہ مہیا ہو جائے۔جب مسز تھیچر نے Spycatcher کے خلاف مہم چلا ئی تھی تو اُن کے ناقدین نے یہی بات کہی تھی کہ تم تو اس کتاب کو انگریز کی نظر سے اوجھل رکھنا چاہتی تھی یہ تمہاری مہم ہی ہے جس نے اس کو اتنی تقویت بخشی ہے لیکن وہ مہم تو پھر ایک معقول دائرے سے تعلق رکھتی تھی جو آپ مہم بے سروپا کریں تو وہ زیادہ تر آپ کو نقصان پہنچاتی ہیں دشمن کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔پس ایک نہایت غلیظ کتاب یہاں تک شہرت پاگئی کہ امریکہ میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر اب اُس کے نہایت گندے اقتباسات جو دراصل مسلمان کی دلآزاری کا موجب تھے پڑھ کر سنائے جارہے ہیں۔یعنی کتاب خریدنے کی بھی ضرورت نہیں رہی وہ غلاظت اور وہ خباثت کروڑ ہا انسانوں تک گھر بیٹھے پہنچ رہی ہے۔تو انسان کو تو جوابی کارروائی حکمت سے کرنی چاہئے۔بدقسمتی سے مسلمانوں میں کوئی معقول سلجھی ہوئی لیڈرشپ نہیں ہے اور وہ مولوی ہے اُس کو اتنی عقل بھی نہیں ہے کہ اسلام کے حق میں کس قسم کی تحریکات چلانی چاہئیں اور کس قسم کی تحریکات سے احتراز کرنا چاہئے اور سارا عذاب اس زمانے میں مسلمان پر یہ ملاں ہے جس کو دنیا کے حالات کی ، دنیا کی سیاست کی ، دنیا