خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 7 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 7

خطبات طاہر جلد ۸ خطبه جمعه ۶ جنوری ۱۹۸۹ء سے یہ التجا کرتے رہیں کہ جو کچھ ہم نے خدا کے حضور قربانیوں کی صورت میں پیش کیا ہے ہم جانتے ہیں کہ اس سے بہت زیادہ کر سکتے تھے۔بہت تھوڑا ہے جو ہم نے کیا ہے لیکن تو بڑھانے والا ہے تو تھوڑے کو بہت کرنے والا ہے اور تیری طاقتوں کی حد کوئی نہیں ، کوئی شمار نہیں ہے اس لئے اس سے قطع نظر کہ ہم نے کیا ڈالا تیری راہ میں تو اسے بہت بڑھا دے۔اس مضمون کو سمجھنا ہو تو پھر اسی مثال کی طرف واپس لوٹتے ہیں ہر زمیندار جو دانے مٹی میں ملاتا ہے اُس کے ساتھ مٹی ایک جیسا سلوک نہیں کیا کرتی۔حالات مختلف ہیں، زمینیں مختلف ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مثال کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض ایسی قربانیاں ہیں جو خالصہ للہ کی جاتی ہیں اور بعض ایسی ہیں جو دکھاوے کی خاطر کی جاتی ہیں۔جو خالصہ للہ کی جاتی ہیں اُن کی مثال ایسی ہے جیسے زمیندار کا دانہ کسی ایسی زرخیز زمین میں پڑے جو غیر معمولی طور پر اس دانے کو بڑھانے کی طاقت رکھتی ہو۔اگر تیز بارش ہو تب بھی وہ زمین بڑی کثرت کے ساتھ اُس پیج کو اگائے اور نشو ونما عطا کرے اور اگر بارش نہ بھی ہو تو رات کی شبنم سے ہی وہ استفادہ کر سکے اور اُسی شبنم کے ذریعے، تھوڑے کے ذریعے بھی وہ اس بیج کو بڑھا دے اور بعض قربانیاں ایسی ہیں جو سطحی ہوا کرتی ہیں جن کو خدا تعالیٰ قبول نہیں فرماتا۔اُن کی مثال ایسی ہے جیسے ایسی سخت چٹان پر بیج پڑے جس کی سطح پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی ہے تو تھوڑی دیر کے لئے روئیدگی ظاہر کرتی ہے، سبزہ دکھائی دیتا ہے لیکن جب بھی بارش آتی ہے وہ سب کچھ بہا لے جاتی ہے۔پھر اسی مثال میں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جولوگ اپنی قربانیوں کا تتبع کرتے ہیں اُن کے پیچھے چلتے ہیں اور اُن کی آبیاری کرتے ہیں اُن کو بہت زیادہ دیا جاتا ہے بہ نسبت اُن زمینداروں کے جو بیج پھینک کر خواہ اچھی زمین پر پھینکا ہو پھر اُس سے غافل ہو جاتے ہیں۔تو صرف قربانی کر دینا کافی نہیں ہے قربانی کیسی ہے اور کس حد تک نشو ونما پانے کی توفیق رکھتی۔ہے؟ یہ ایک بہت ہی وسیع مضمون ہے اس لئے دعاؤں کے ذریعے خدا تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہئے۔وہ حال کا بھی خدا ہے، مستقبل کا بھی ہے اور ماضی کا بھی ہے۔یہ التجا کر نی چاہئے کہ اگر ہماری قربانیوں میں ہماری نیتوں میں کچھ فتور بھی رہ گیا ہو اور خالصہ تیرے لئے نہ بھی کی گئی ہوں تو آج ہم التجا کرتے ہیں کہ ہمیں بخش دے، ہمیں معاف فرما! ہماری قربانیوں کو کامل سچائی عطا کر ! تو