خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 6
خطبات طاہر جلد ۸ 6 خطبہ جمعہ ۶ /جنوری ۱۹۸۹ء قدر کر سکتا ہے ایسی نہیں جو اس دور میں جماعت احمدیہ نے خدا کی راہ میں قربان نہ کر دی ہوں۔جو کچھ اُن کو حاصل تھا وہ سب کچھ دے دیا۔ایسے خطر ناک حالات تھے کہ اُس زمانے میں بعض علاقوں کے متعلق انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہاں کے معزز لوگ تمام عزتوں کو اپنے ہاتھ سے حج کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی آواز پر لبیک کہہ دیں گے اور یہ لمبی کہانی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا جو کچھ انہوں نے خدا کی راہ میں پیش کیا اُس کو بہت بڑھا کر اللہ تعالیٰ نے اُن کی آئندہ نسلوں اور اُن کے خاندانوں کو عطا فرمایا۔آج دنیا کے کونے کونے میں احمدی نسلیں جو ان بزرگوں کی نسلیں ہیں پھیلی پڑی ہیں وہ گواہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے کسی ایک چیز کو بھی اُن کے لئے اپنے پاس رکھا نہیں بلکہ يَقْبِضُ وَ يَبضُطُ کے مضمون کو بڑی شان کے ساتھ پورا فرمایا ہے۔اُن کو وسعتیں عطا کیں اُن کی عزتیں بڑھائیں، اُن کے اموال بڑھائے ، اُن کی طاقتیں بڑھائیں، اُن کے اثر و رسوخ بڑھائے ، اُن کی جانوں کو برکت دی، اُن کے خاندانوں میں اُن کی نسلوں کو برکت عطا فرمائی۔غرض یہ کہ ہر پہلو سے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑھا چڑھا کر اُن کو واپس فرمایا۔آج ایک سو سال کا عرصہ گزرنے کو ہے اور اس ایک سو سال میں ہم مسلسل اللہ تعالیٰ کے بڑھتے ہوئے ، وسیع تر ہوتے ہوئے فضلوں کا نظارہ کرتے چلے آئے ہیں۔اس لحاظ سے آج جو ہمیں قربانی کی توفیق مل رہی ہے اس پر اگر آپ غور کریں تو یہ بھی انہی قربانیوں کے بچے ہیں جو قربانیاں اُس وقت تھوڑی نظر آتی تھیں آج زیادہ ہو کر جو دکھائی دے رہی ہیں دراصل یہ بھی يَقْبِضُ وَ يَنقُطُ کے مضمون سے تعلق رکھنے والی بات ہے۔قربانیوں کی طاقت کو بھی خدا تعالیٰ بڑھاتا ہے، قربانیوں کے مظاہروں کو بھی اللہ تعالیٰ برکت عطا فرماتا ہے اور ایک نسل جو اس بات کا عرفان نہ رکھتی ہو بعض دفعہ بیوقوفی میں یہ کہہ سکتی ہے کہ ہم زیادہ قربانیاں دے رہے ہیں، ہم زیادہ وقت دے رہے ہیں، ہم منظم طور پر زیادہ کام کر رہے ہیں لیکن اس بات کو وہ بھول جاتے ہیں کہ دراصل اُن کے آباء کی قربانیاں ہیں جو بحیثیت قربانی برکت پارہی ہیں۔پس جو کچھ آج ہم روحانی لحاظ سے مٹی میں ملا رہے ہیں یا ملانے کی توفیق پارہے ہیں۔مٹی میں ملانے کی سعادت پارہے ہیں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ صدی بکثرت ان قربانیوں کا فیض پائے گی اور اگر ہم دعاؤں کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے اپنی کوتاہیوں اور غفلتوں کی معافی چاہتے ہوئے ،استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ