خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 8

خطبات طاہر جلد ۸ 8 خطبہ جمعہ ۶ /جنوری ۱۹۸۹ء منتقبل کا خدا ہے ویسے ماضی کا بھی ہے تو زمانے کا مالک ہے چاہے تو ہماری گزری ہوئی قربانیوں پر بھی پردہ پوشی فرما سکتا ہے اور اُن کو تاہیوں کی زد سے ہماری قربانیوں کو بچاسکتا ہے۔اس لئے آئندہ کے لئے ہمیں خلوص کی تکلیف عطا فرما اور سابقہ کوتاہیوں کو بخش دے اور پھر ایسی فضلوں کی موسلا دھار بارش فرما کہ ہماری تھوڑی قربانیاں بھی بہت زیادہ نشو و نما پائیں اور ہر زمانے میں نشو و نما پاتی رہیں۔یہ مضمون جو ہے اس کو پھر خدا تعالیٰ اور بڑھاتا ہے۔فرماتا ہے کہ عام قانون قدرت میں جب بہت دیا جائے تو ایک دانہ سات بالیوں میں تبدیل ہو سکتا ہے اور ہر بالی میں سوسو دانے ہوں تو ایک دانہ سات سو گنا ترقی کر سکتا ہے لیکن فرمایا کہ یہیں بات ختم نہیں ہو جاتی یہ تو تمہارے اخلاص کے کمال اور خدا تعالیٰ کے اس اخلاص کو قبول کرنے کا مضمون ہے لیکن خدا تعالیٰ کے فضل کا مضمون جس کا قربانیوں سے کوئی تعلق نہیں یعنی براہ راست تعلق نہیں وہ اس کے علاوہ ہے فرمایا اگر تم بہترین رنگ میں خدا کی راہ میں قربانیاں پیش کرو گے تو عام قانون ہے جو روحانی دنیا میں چل رہا ہے جس کا اطلاق بعض شکلوں میں مادی دنیا میں بھی تم ہوتا ہوا د یکھتے ہو وہ یہ ہے کہ ایک قربانی سات سو گنا زیادہ پھل پیدا کر سکتی ہے لیکن کچھ ایسے بھی ہیں لوگ جن کی خاطر خدا لا محد و دطور پر ان قربانیوں کے پھلوں کو بڑھا بھی سکتا ہے يُضعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ (البقرہ:۲۶۲) جس کے لئے وہ چاہے، جس کے لئے وہ فیصلہ کرے وہ ان اربعوں اور قوانین کی حد سے بالا سمجھا جائے گا اور ان حدود کے دائرہ کے اندر اس سے سلوک نہیں کیا جائے گا بلکہ لامحدود سلوک کیا جائے گا۔تو ہمارا جس خدا سے تعلق ہے اُس کے ساتھ یہ جو حسابی معاملات ہیں یہ ہمیں درست کرنے ہوں گے اور بے حساب کی توقع اُس سے ہم رکھیں تو وہ بے حساب دے سکتا ہے۔پس جہاں تک انسان کا تعلق ہے اُسے اپنا حساب ضرور درست کرنا چاہئے ، اور اپنا حساب درست کرنے کے بعد اُس کے ساتھ خدا پر توکل رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو حساب کے مطابق بہت دے یا بے حساب عطا کرے۔اس بے حساب عطا کرنے کے مضمون میں بظاہر کوئی منطق نہیں۔وہ کون لوگ ہیں جن کے ساتھ خدا تعالیٰ بے حساب سلوک فرماتا ہے۔اس مضمون کو اگر آپ سمجھ لیں تو پھر ہم میں سے ہر شخص اللہ تعالیٰ سے لامحدود عنایات کی توقع رکھ سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کے ہاں احسان میں بھی عدل پایا جاتا ہے اور کلیۂ بے وجہ اُس کا کوئی سلوک بھی نہیں ہے۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے بے حساب عطا کرنے کا مضمون اس بات سے تعلق رکھتا ہے کہ آپ اپنی