خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 94 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 94

خطبات طاہر جلدے 94 خطبه جمعه ۹ار فروری ۱۹۸۸ء آمد کے انتظار میں کھڑا تھا۔میں بہت حیران ہوا میں نے ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا۔میں ایک مذہبی راہنما ہوں ، سر براہ مملکت نہیں ہوں میں حیران تھا کہ یہ سلوک جو مجھ سے ہورہا ہے یہ تو سر براہان مملکت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔پولیس ، ٹریفک پولیس ہر شخص بہت ہی مہربان اور شفقت کے ساتھ پیش آ رہا تھا اس سے میں بہت متاثر بھی ہوا اور حیران بھی کہ یہ کیا ہورہا ہے۔تب میں نے براہ راست ایک وزیر سے یہ سوال کر دیا کہ آپ یہ سب کچھ میرے ساتھ کیوں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ آپ نے ہمارے ساتھ کیا حسن سلوک کر رکھا ہے۔یہ تمام سکولز ہسپتال اور نیک نامی جو احمدی یہاں ساتھ لاتے ہیں یعنی امن کی فضاء، امن کا پیغام اور نیک برتاؤ! آپ کا کیا خیال ہے کہ ہم ان باتوں کا مشاہدہ نہیں کرتے۔ہم آپ کے ممنون احسان ہیں۔پس ان انتہائی جذبات شکر کا اظہار نہ صرف الفاظ میں بلکہ عمل کے ذریعہ سے بھی کیا گیا۔اس لئے میں محسوس کرتا ہوں کہ اگر یہ خوبی محض افریقہ کے ساتھ خاص نہیں تب بھی کم از کم افریقی کردار کی خاصیت ضرور ہے۔اس قسم کے معاملات ہر جگہ ہوتے ہیں کہیں کچھ اختلاف کے ساتھ لیکن جذبات شکر کھل کر ہر جگہ جہاں میں نے دورہ کیا ہے سامنے آئے۔مثلاً جب میں سیرالیون پہنچا تو بہت حیران ہوا کہ سیرالیون کے صدر محترم نے خاص ہدایات دی ہوئی تھیں کہ ان کا ذاتی ہیلی کاپٹر میرے لئے استعمال ہوگا اور میرے انتظار کیلئے انہوں نے ایک وزیر کو مقرر کیا تا کہ وہ میرے دورہ کا خیال رکھے اسی طرح انہوں نے ایک اے، ڈی ہی بھی مقرر کر دیا۔تو یہ بہت ہی زیادہ نوازش تھی جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس قسم کا سلوک میرے جیسے عام اور عاجز آدمی کیلئے کیا جائے گا یعنی ایک مذہبی رہنما کیلئے جو کہ کسی ریاست سے تعلق نہیں رکھتا۔جس وزیر کو اس کام کیلئے مقرر کیا گیا تھا میں نے ان سے استفسار کیا۔وہ مذہبی امور کے وزیر اور مسلمان تھے احمدی نہ تھے لیکن انہوں نے واضح الفاظ میں اس بات کو تسلیم کیا۔انہوں نے کہا کہ آپ خود بھی صحیح طور پر اس بات کو محسوس نہیں کر سکتے کہ آپ نے اب تک ہماری کیا خدمت کی ہے۔پورے ملک میں ۹۷ پرائمری سکول ،۲۶ ہائر ایجوکیشن سکولز جو کہ اس قدر اعلیٰ درجہ کے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو ان میں بھجوانے کو ترجیح دیتے ہیں بجائے اس کے کہ ہم بچوں کو مشن سکولز یا گورنمنٹ کے سکولوں میں بھجوائیں۔تو ہم یہ باتیں جانتے ہیں لیکن آپ یہ محسوس نہیں کر سکتے۔آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے ایک مہربانی کی اور بھول گئے لیکن ہم اس احسان کو بھول نہیں