خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 95
خطبات طاہر جلدے 95 خطبه جمعه ۱۹ار فروری ۱۹۸۸ء سکتے۔تو یہ ایک وجہ ہے آپ کا استقبال کرنے کی اور اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں۔دوسری بات جس کا انہوں نے مجھ سے ذکر کیا اور جس سے مجھے بہت خوشی ہوئی ، انہوں نے کہا کہ دیکھیں اگر سیرالیون میں احمدیت نہ آتی تو یہ سارا ملک عیسائی ہو چکا ہوتا اور اسی طرح پورے افریقہ کیلئے بھی یہی بات کہی جاسکتی ہے۔آپ لوگ پر امن رہتے ہیں ہمحبت کرتے ہیں ، فساد پیدا نہیں کرتے لیکن آپ نے دلیل کے زور پر مسلسل پیچھے لگے رہنے کی طاقت اور محبت کی قوت سے عیسائیت کو شکست دے دی ہے اور ہمیں باور کروایا ہے کہ صرف اسلام ہی دنیا میں آخری مذہب ہے۔پس یہ شکست تلوار کے ذریعہ سے نہیں ہوئی بلکہ محبت سے ہوئی ہے۔اس چیز نے ہمیں بہت مسرت بخشی اور ہم اس پر ہمیشہ آپ کے شکر گزار ہیں گے۔جس چیز نے مجھے مزید حیران کیا وہ یہ کہ عیسائی بھی شکر گزار تھے۔وہ بہت مہربان،خوش اخلاق، مہمان نواز اور فراخ دل تھے۔انہوں نے اس بات کو قطعا برانہیں منایا کہ اس براعظم میں دراصل ہم ہی ان کے مقابل پر ہیں۔انہوں نے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی کہ مسلمانوں میں سے صرف احمدی ہی ہیں جنہوں نے عیسائیت کے پھیلاؤ کو افریقہ میں روک دیا ہے اور اکثر جگہوں پران کے کام کو پلٹ کے رکھ دیا ہے۔وہ پوری طرح اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ آج صرف احمدی ہی ہیں جو اسلام کے لئے عیسائیت پر فتح پارہے ہیں اور وہ دن گئے جب عیسائی مسلمانوں کو فتح کیا کرتے تھے۔یہ سب کچھ جانتے ہوئے عیسائی سربراہان مملکت ، عیسائی وزراء، عیسائی عوام، عیسائی مذہبی راہنماؤں کا رویہ بہت ہی مہربان شفیق اور مہمان نواز تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہم افریقہ کی خدمت کر رہے ہیں اور وہ اپنے آپ کو اتنا ہی افریقی سمجھتے ہیں جتنا کہ مسلمان۔جب میں نے سیرالیون کے شمالی علاقہ کا دورہ کیا جو رومن کیتھولک کے کنٹرول میں ہے تو میں بہت حیران ہوا جب میں نے دیکھا کہ بشپ صاحب جو کہ شمالی حصہ کی سب سے بڑی عیسائی شخصیت ہیں دوسرے احمدیوں اور مسلمانوں کے ہمراہ جو کہ میرے استقبال کیلئے اکٹھے ہوئے تھے میرے استقبال کیلئے منتظر کھڑے تھے۔صرف یہاں تک ہی نہیں بلکہ وہ میرے خطاب کے دوران پورا وقت بیٹھے رہے اور انہوں نے مجھے کار میں الوداع بھی کیا۔جب تک کار چلی نہیں گئی وہ وہاں سے نہیں گئے۔یہی معاملہ جنوبی علاقہ میں بھی پیش آیا۔جنوبی علاقہ کے بشپ صاحب بھی دوسرے میزبانوں