خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 93
خطبات طاہر جلدے 93 خطبه جمعه ۹ار فروری ۱۹۸۸ء ہے۔جوان اور بوڑھے، مرد اور عورتیں ان سب میں یہ زبر دست خوبی موجود ہے کہ وہ صبر کا دامن نہیں چھوڑتے اور خاموش رہتے ہیں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور ان کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔تیسری اہم خوبی جو آپ میں دوسرے افریقی ممالک کی طرح پائی جاتی ہے وہ آپ کا مختلف نظریات کوسنا اور برداشت کرنا ہے۔میں نے افریقی ممالک میں عیسائیوں ،مسلمانوں، لامذہب لوگوں جنہیں آپ جو بھی کہیں ان سب کو ایک خاندان میں اکٹھے رہتے ہوئے دیکھا ہے۔جو انتہائی پر امن طریق اور ایک دوسرے سے موافقت کے ساتھ رہ رہے ہیں۔وہ گھر کے امن کو بھی خراب نہیں کرتے اور نہ علاقے اور ملک کے امن کو خراب کرتے ہیں صرف اس بنا پر کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں اختلاف رائے رکھتے ہیں اور یہ کہ اللہ ان کے ساتھ آخرت میں کیا معاملہ کر دیگا۔وہ ان باتوں کو اللہ پر چھوڑتے ہیں کہ وہی ان کا فیصلہ کرے گا۔وہ خدا نہیں بنتے وہ تنگ ذہن نہیں ہیں کہ صرف اس بات پر کہ لوگ اختلاف عقیدہ رکھتے ہیں انہیں مارنا پیٹنا شروع کر دیں۔یہ بہت ہی خوبصورت نقطہ ہے اور بہت ہی خوبصورت افریقی کردار ہے جو کہ دوسری دنیا میں بہت ہی کم ملتا ہے اگر ملتا ہے بھی تو وہ کم طاقت اور کم شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے۔افریقی کردار کا چوتھا ہم وصف ان کا شکر گزار ہونا ہے۔یہ بہت ہی اہم بات ہے کہ ایک شخص اپنے ساتھیوں کیلئے جذبات شکر رکھتا ہو ورنہ اس کا خدا تعالیٰ کیلئے شکر گزار ہونے کا دعویٰ غلط ہوگا۔یہ اصل میں وہ بات ہے جو ہمیں حضرت محمد مصطفی امیہ نے سکھائی ہے جب آپ نے فرمایا کہ مَنْ لَّمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ الله ( ترندی کتاب البر والصله حدیث نمبر: ۱۸۷۷) یعنی وہ شخص جولوگوں اور اپنے ساتھیوں کا شکر ادانہیں کرتاوہ اللہ کا بھی شکر نہیں کرتا۔اگر وہ اپنے ساتھیوں کا شکر یہ ادا نہیں کرسکتا۔میں نے جہاں کہیں بھی دورہ کیا ہے جذبات شکر کی اس خوبی کو محسوس کیا ہے جس کا اظہار نہ صرف الفاظ سے ہوا بلکہ عمل سے بھی ہوا۔مثال کے طور پر جب میں گیمبیا پہنچا تو حکومت نے بہت مہربانی کی۔وزراء میرے استقبال کیلئے ایئر پورٹ پر موجود تھے اور ہمہ وقت میرے ساتھ موجود رہے۔انہوں نے میرے پاس آنا جانا جاری رکھا اور مستقل طور پر مجھ سے اپنی موجودگی کا تعلق قائم رکھا اور میں نے گیمبیا کا جہاں بھی دورہ کیا یہی معاملہ رہا ہمہبران پارلیمنٹ ،کمشنر ز اور ہر شخص میرے