خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 88 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 88

خطبات طاہر جلدے 88 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۸۸ء زندگی کی وہ ضرورت ہے مجھے بتائیے جس میں آج افریقہ آزاد ہو چکا ہے۔اس تہذیبی غلامی کا سب سے بداثر افریقہ کے ان تعلیم یافتہ لوگوں پر پڑا جن کی طرز معاشرت ایسی بن چکی تھی کہ وہ اپنے ملک کی بجائے غیر ملکوں میں اپنے کو زیادہ ترجیح دینے لگے۔پس افریقہ کولوٹنے والا ایک ہاتھ نہیں رہا بلکہ ایک اور ہاتھ نمودار ہوا۔ایک طرف سفید ہاتھ افریقہ کولوٹ رہا تھا دوسری طرف افریقہ کا اپنا کالا ہاتھ بھی افریقہ کو لوٹنے میں مصروف ہو گیا۔اور میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت افریقہ کی تہذیبی اور تمدنی اور اقتصادی آزادی میں سے بڑی روک وہ دوسرا ہاتھ ہے جو افریقہ کے ملک سے تعلق رکھتا ہے لیکن غلامی کی زنجیروں کو مستقل اور پختہ کرنے میں وہ غیر قوموں کی امداد کر رہا ہے۔مجھے افریقہ کے بہت سے دانشوروں اور صاحب اقتدار دوستوں سے اس مسئلہ پر گفتگو کا موقع ملا اور حکومت کے با اختیار لوگوں سے ملنے کے بعد میرا یہ یقین پختہ ہو گیا کہ وہ اپنی سر توڑ کوشش اس بات کی کر رہی ہیں کہ کس طرح افریقہ کی سیاسی آزادی کو ہی نہیں بلکہ اقتصادی اور معاشی اور تمدنی آزادی کو بھی بحال کریں۔وہ عظیم الشان منصوبے اس بات کے بنارہے ہیں کہ افریقہ کی ضرورت کی چیزیں افریقہ ہی میں انڈسٹری کے ذریعہ پوری کی جائیں۔وہ ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ سڑکوں کی بحالی کا انتظام ہو اور پل بنائے جائیں تا کہ افریقہ کے جنگلوں کے علاقے سے قیمتی اشیاء آسانی کے ساتھ شہروں کی طرف منتقل ہو سکیں لیکن ان کی راہ میں سب سے بڑی مشکل یہی ہے کہ اس عالمی سرمایہ کاری کے نظام میں سرمایہ حاصل کئے بغیر اس قسم کے ترقیاتی منصوبے جاری نہیں کئے جاسکتے اور سرمایہ کاری کے لئے جب وہ مغربی قوموں سے رابطہ کرتے ہیں تو جن شرطوں پر سرمایہ کاری کے لئے وہ تیار ہوتے ہیں وہ شرطیں صرف حال ہی کو نہیں مستقبل کو بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کے لئے ایک جال کی طرح کام کرتی ہیں، ایک سازش کی طور پر رونما ہور ہی ہیں۔قومی خدمت سے سرشار اور یہ عزم لئے ہوئے کہ ہر قیمت پر افریقہ کی ترقیات کے منصوبے جاری کرنے ہیں۔ایک ایسے دوست سے میری ملاقات ہوئی جو حقیقتاً کلیۂ پورے خلوص کے ساتھ غانا کی خدمت پر آمادہ اور صرف آمادہ ہی نہیں بلکہ مستعدد دکھائی دیئے لیکن انہوں نے بڑے پر دردانداز میں مجھے اپنے تلخ تجربوں سے آگاہ کیا کہ کس طرح غیر قوموں سے گفت وشنید کے نتیجہ میں وہ محسوس کرتے رہے کہ جب بھی اقتصادی ترقی کے لئے کوئی منصوبہ ان کے سامنے پیش کیا