خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 89
خطبات طاہر جلدے 89 خطبه جمعه ۱۲ / فروری ۱۹۸۸ء جاتا ہے تو وہ ایسی شرطیں پیش کرتے ہیں جن کے نتیجہ میں یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنا مستقبل بھی ان قوموں کے ہاتھ میں بیچ دیں گے۔چنانچہ مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ ہم ہر قسم کے خطرات سے آگاہ ہیں اور پوری کوشش کر رہے ہیں کہ مزید نقصان سے بچتے ہوئے ایسے معاہدے کریں جن کے نتیجہ میں افریقہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے یعنی غانا ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔میں نے ان سے عرض کیا کہ میری دعا یہی ہے کہ آپ کامیاب ہوں۔میری دلی تمنا یہی ہے اور اس ملک سے جانے کے بعد بھی میں ہمیشہ درد سے آپ کے لئے دعا کرتا رہوں گا لیکن اتنا کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے کبھی بلی چوہے کے کھیل میں یہ نہیں دیکھا کہ چوہے کی کوشش بلی پر غالب آنے میں کامیاب ہو سکی ہو۔ہاں میں نے ضرور خود اپنی ان آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ایک دفعہ ایک بلی جس کا پیٹ بھرا ہوا تھا ایک چوہے سے کھیلتی رہی وہ چاہتی تو اسے ہرگز اپنے بل میں داخل نہ ہونے دیتی لیکن جب اس نے کھیل کر شوق پورا کر لیا تو خود اپنی رضا سے اسے بل میں داخل ہونے دیا مگر افسوس صد افسوس کہ آج افریقہ کو جن بلیوں سے واسطہ ہے ان کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا اور مستقبل میں بھی اس کے بھرنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔پس میں نے غور کیا تو مجھے پہلے سے بھی بڑھ کر اس بات کا یقین ہو گیا کہ افریقہ کو خود اپنی ہستی کی شناخت دوبارہ کرنی پڑے گی اور خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑے گا اور دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی پڑے گی اس کے سوا افریقہ کی نجات کا اور کوئی چارہ نہیں۔پس میں نے جب یورپ اور افریقہ کے افق پر نظر دوڑائی تو اس بات سے حیران بھی ہوا اور مطمئن بھی کہ غانا کے جولوگ یورپ اور امریکہ میں بس رہے ہیں۔ان کے پاس اتنی دولت ہے کہ اگر وہ اس شعور کے ساتھ بیدار ہو جائیں اس عزم کے ساتھ بیدار ہو جائیں کہ ہم نے اپنی قوم کی خدمت کرنی ہے تو وہ روپیہ بھی جو خود یہاں سے وہ باہر منتقل کر چکے ہیں اور وہ روپیہ بھی جو باہر انہوں نے بیٹھ کر کمایا ہے ملک میں واپس بھیجنا شروع کر دیں تو آپ کو کسی غیر قوم کی مدد کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ان تعلیم یافتہ متمول غانین سے بہتر تو پاکستان کے غریب مزدور اپنے ملک سے سلوک کر رہے ہیں اور وہ لوگ جو اقتصادیات سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ پاکستان کی تمام دولت کا 40 فیصد وہ روپیہ ہے جو غریب مزدور باہر کے ملکوں سے کما کر اپنے ملک کو واپس بھیجتے ہیں۔یہی حال ترکی کے مزدوروں کا