خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 87

خطبات طاہر جلدے 87 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۸۸ء غلامی کے نام بدل گئے ہیں، زنجیریں تبدیل کر دی گئیں ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی افریقہ اسی طرح غیر قوموں کی غلامی میں جکڑا ہوا ہے جس طرح آج سے سو سال یا دوسو سال پہلے تھا۔پہلے افریقہ کی جو دولت اقتدار کے برتے پر اور طاقت کے دبدبے سے لوٹی جاتی تھی اب وہ مختلف قسم کے عالمی مالی نظام کے چنگل میں جکڑ کر اب بھی لوٹی جارہی ہے۔افریقہ آج بھی بے اختیار اور بے بس ہے اور غربت سے سسک رہا ہے آج بھی افریقہ غیر قوموں کا محتاج ہے۔ہر وہ چیز جس کی افریقہ کو ضرورت ہے وہ غیر قوموں سے بن کر آتی ہے اور ہر وہ مال جو افریقہ میں پیدا ہوتا ہے ستے داموں غیر قو میں دن بدن پہلے سے زیادہ کھینچتی چلی جارہی ہیں۔اس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے مجھے کچھ اور زنجیریں بھی نظر آئیں جو عیسائیت کے ساتھ اور سلطنت برطانیہ یا سلطنت ولندیزی یاجو بھی سلطنتیں باہر سے آئیں ان کے ساتھ ساتھ وہ داخل ہوئیں لیکن آپ میں سے اکثریت کو آج بھی وہ زنجیریں دکھائی نہیں دے رہیں۔وہ مغربی تہذیب و تمدن کی زنجیریں تھیں ان زنجیروں کے بندھن میں جس طرح کل افریقہ جکڑا ہوتا تھا آج بھی اس طرح جکڑا ہوا ہے بلکہ وہ بندھن اور بھی زیادہ تنگ اور شدید ہوتے چلے جارہے ہیں۔آپ میں سے ایک بھاری طبقہ ایک ایسی طرز زندگی اختیار کرنے کا عادی بنایا جا چکا ہے کہ جن کی اب بس میں نہیں رہا کہ اس طرز زندگی سے چھٹکارا پاسکیں اور اس طرز زندگی کی بقا کا تمام تر انحصار غیر قوموں میں پیدا ہونے والی اجناس اور غیر قوموں میں پیدا ہونے والی صنعتی اشیاء کے ساتھ ہے۔چنانچہ میں نے افریقہ کے جن ممالک کا دور کیا انہیں بہت ہی بدحال پایا اور اس لحاظ سے انتہائی درد محسوس کرتا رہا اور انتہائی کسک محسوس کرتا رہا۔ان کے بڑوں سے بھی اور ان کے چھوٹوں سے بھی میں نے گفتگو کی اور میں نے محسوس کیا کہ وہ خود جانتے ہیں کہ آج بھی مہذب اور عظیم الشان قومیں امداد کے بہانے اور قرضوں کے بہانے ان کو جن زنجیروں میں جکڑتی چلی جارہی ہیں ان کی آزادی سے سر دست افریقہ کو کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔آج افریقہ اپنی سڑکوں کے لئے غیر قوموں کا محتاج ہے، اپنے پلوں کے لئے غیر قوموں کا محتاج ہے،اپنے کپڑوں تک کے لئے غیر قوموں کا محتاج ہے، اپنے جوتوں کے لئے غیر قوموں کا محتاج ہے، اپنی ٹوتھ پیسٹ کے لئے غیر قوموں کا محتاج ہے اپنی آئسکریم کے لئے غیر قوموں کا محتاج ہے، اپنی کوکا کولا کے لئے غیر قوموں کا محتاج ہے۔کونسی