خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 887 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 887

خطبات طاہر جلدے 887 خطبه جمعه ۳۰ / دسمبر ۱۹۸۸ء جب صبح کے وقت آنکھ کھولتا ہے تو جب تک شام کو تھک کر اس کو نیند دنیا و مافیہا سے غافل نہیں کر دیتی بے شمار تجارب سے انسان گزرتا ہے۔ضروری تو نہیں کہ کوئی بہت بڑا طوفان ہی آجائے تو تب انسان کو پتا چلتا ہے کہ میں خطروں میں گھرا ہوا ہوں۔کوئی چھوٹی سی خبر آگئی کسی نقصان کی اور کچھ نہیں تو گھر میں کوئی برتن ٹوٹ گیا، کسی بچے نے چھینک ماری تو ماں کو خطرہ پیدا ہوا یہ بیمار ہو جائے گا۔روز مرہ کی باتیں پتا چلا کہ یہ کوئی چیز نئی لے آیا ہے۔کوئی چیز خرید کے آئی ہے عورت تو دائیں بائیں پاؤں کی بجائے ایک ہی پاؤں کی دونوں جوتیاں خرید لی گئیں، کوئی چیز لی ہے اس میں کوئی سوراخ تھا اس کا نقصان تو بعد میں پتا چلا۔ایک مسئلہ ہے کوئی انسانی زندگی تو مسائل سے گھری ہوئی ہے صبح سے شام تک یا امید میں بندھ رہی ہیں یا نقصان کی خبریں آرہی ہیں یا خوف ہے یا کوئی نہ کوئی حالت تو انسان پر رہتی ہے۔ان حالتوں میں آپ اللہ کی طرف دوڑنے کی کوشش کریں یہ ہے وہ بات جو میں آپ کو سمجھانی چاہتا ہوں۔اگر ان چھوٹی چھوٹی حالتوں میں آپ نے عادت نہ ڈالی خدا کی طرف دوڑنے کی تو پھر بڑے وقتوں میں آپ نہیں دوڑ سکیں گے۔آپ نے دیکھا نہیں جب جنگیں آیا کرتی ہیں تو حکومتوں کی طرف سے ایسی مشقیں کروائی جاتی ہیں کہ اگر Air Raid کا الارم بجے تو تم نے کن پناہ گاہوں کی طرف دوڑنا ہے اور یہ جو تجربہ ہے یہ انسان کو تو اس رنگ میں کبھی کبھی پیش آتا ہے۔حیوانی زندگی میں تو ہر روز یہ تجارب بعض دفعہ گھنٹے میں کئی کئی مرتبہ تجارب ہوتے رہتے ہیں۔آپ نے چڑیاں چگتی نہیں دیکھیں کس طرح وہ بار بار بائیں دائیں دیکھ رہی ہوتی ہیں اور ہر چڑیا جونگرانی کر رہی ہوتی ہے اپنی ، اپنے ساتھیوں کی کہ کہیں کوئی دشمن حملہ آور تو نہیں ہورہا اس کو پتا ہوتا ہے کہ میری پناہ گاہ کونسی ہے۔ہر چوہا جو بل سے باہر جاتا ہے اس کو علم ہوتا ہے کہ میں نے کس پناہ گاہ کی طرف واپس دوڑنا ہے۔کوئی دنیا کا جانور نہیں ہے جو اپنی پناہ گاہ کو نظر انداز کر کے میدانوں میں باہر آئے اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ دنیا سے ملیا میٹ اور نابود ہو جائے گا۔اس وسیع حیوانی تجربہ سے انسان کیوں فائدہ نہیں اٹھا تا اگر آپ کو خدا کی پناہ گاہوں کی طرف دوڑنے کی عادت نہیں رہی ، اگر آپ کو معلوم نہ ہوا کہ کن پناہ گاہوں میں آپ نے کن خطروں کے وقت پناہ لینی ہے تو آپ کھلے آسمان کے نیچے بغیر چھت کے، بغیر کسی سہارے کے پڑے رہ جائیں گے۔خطروں کے وقت پھر کوئی پناہ گاہ آپ کو یاد نہیں آئے گی۔آپ کو توفیق نہیں ملے گی کہ آپ خدا کی پناہ میں آجائیں۔خدا کی پناہ میں آنا ہے تو