خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 886 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 886

خطبات طاہر جلدے 886 خطبه جمعه ۳۰ / دسمبر ۱۹۸۸ء ہو گیا، اس کا کوئی محبوب ہاتھ سے جاتا رہا، اس کے مکان کو آگ لگ گئی ، اس کی بیوی بھی ضائع ہو گئی جو کچھ بھی ہوا ہے۔جس حالت میں بھی وہ پہنچا ہے اگر اللہ صبر کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہ سوچے گا کہ جو کچھ بھی یہ تھا یا خدا کی طرف سے تھا اور میں اتنا بے اختیار اور بے بس انسان ہوں کہ اب مجھے پتا چلا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔جب تک یہ چیزیں میرے پاس رہیں، میرے پاس رہیں جب چلی گئیں تو میں ان کو روک نہیں سکا۔انسان کی کیا حیثیت ہے۔یہ چیز اس کو انکساری سکھائے گی اور انکساری اسے خدا سے تعلق کی راہ دکھائے گی کیونکہ انکساری کا مطلب یہ ہے کہ انسان محسوس کرے کہ میں کمزور ہوں اور کمزوری ہمیشہ طاقتور سے تعلق قائم کرنے کا جذبہ بیدار کیا کرتی ہے اور صبر اللہ چونکہ اللہ ہی کا مضمون ہے اس لئے خدا کے سوا کوئی اور خیال اس کے دل میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا پھر ، انسان کی طرف بھاگنے کی بجائے اس کا دل خدا کی طرف بھاگے گا اور خدا سے ایک تعلق قائم ہو جائے گا۔اگر یہ نہ ہو تو پھر پیٹتا رہے جو مرضی کرتا رہے ساری زندگی اسکی عذاب میں گزرے گی۔بعض عورتیں پاگل ہو جاتی ہیں صدموں کے ساتھ ، گلیوں میں دیوانہ وار پھرتی رہتی ہیں۔بعض لوگ سوسائٹی سے اپنے تعلقات توڑ لیتے ہیں، بعض خدا کے خلاف باتیں شروع کر دیتے ہیں کہ وہ کیسا خدا ہے جس نے یہ مصیبت ہم پر ڈال دی ہے اس کو ہمارےاحساس کا کوئی خیال نہیں آیا۔تو جب صبر ٹوٹتا ہے تو تو حید ٹوٹ جاتی ہے۔خدا سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔ہر قسم کے نقصانات کے لئے انسان اپنے وجود کو کھلا چھوڑ دیتا ہے اس لئے فَفِرُّوا اِلَى الله کا مطلب یہ ہے کہ ہر وقت، ہر نقصان کے وقت ، ہر خطرے کے وقت خدا کی طرف دوڑنے کی عادت ڈالو۔اگر تم خدا کی طرف دوڑنے کی عادت ڈالو گے تو تمہیں اس کے نتیجے میں جو صبر نصیب ہو گا وہی ہے جو تمہاری حفاظت کرے گا اور اگر نہیں کرو گے تو کوئی بھی پاک تبدیلی تم پیدا نہیں کر سکتے ، اپنے حالات کو بہتر نہیں بنا سکتے لیکن نقصان پھر تمہارا بیرونی نہیں رہے گا تمہاری اندرونی دنیا بھی اجڑ جائے گی۔جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ بھی ہاتھ سے جاتا رہے گا۔اس لئے صبر کو بڑی تفصیل سے سمجھ کر اپنی انسانی زندگی کی ہر حالت پر اس کو صادق کرنا چاہئے ،اس کا اطلاق کرنا چاہئے اور اب اس کے بعد آپ دیکھیں گے یعنی جب بھی آپ کے اوپر کوئی نہ کوئی حالت طاری ہوگی اور روزانہ ہوتی رہتی ہے انسان پر۔بعض خطرے تھوڑے ہوتے ہیں بعض بڑے ہوتے ہیں۔انسان