خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 888
خطبات طاہر جلدے 888 خطبه جمعه ۳۰ / دسمبر ۱۹۸۸ء روزانہ کی زندگی میں ہر روز یہ مشق کریں، انسانی حالات میں تو یہ جنگوں کے زمانے کبھی کبھی آیا کرتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے جس جہاد کی طرف مومن کو متوجہ کیا ہے نفس کا جہاد اس کی جنگ ہر روز ہرلمحہ جاری ہے۔ہر لمحہ ایسے خطرات درپیش ہوتے ہیں کہ جب آپ خدا کی کسی صفت کی پناہ گاہ کی طرف دوڑتے ہیں اگر نہیں دوڑتے تو پھر آپ غافل ہیں اور غافل کو ہمیشہ خطرات ایسے وقت میں آلیتے ہیں کہ کوئی چیز اس کی حفاظت نہیں کر سکتی۔پس غفلت سے ایک ہوش کی حالت کی طرف منتقل ہوں۔خدا تعالیٰ کی پناہ گاہیں لا منتہی ہیں۔آپ کے خوف جتنے بھی ہو سکتے ہیں ہر خوف سے بڑھ کر اس کے مقابل پر خدا تعالیٰ نے آپ کے لئے ایک پناہ گاہ رکھی ہوئی ہے لیکن روز مرہ اس کی مشق کریں۔پہچانیں کہ وہ کونسی پناہ گاہ ہے ،کس طرح آپ نے خدا کی پناہ میں آنا ہے، کس طرح اس کی حفاظت میں جانا ہے پھر آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بڑے بڑے خطرات سے پنا ہیں ملیں گی۔کوئی دنیا کی طاقت، کوئی دنیا کا خوف ایسا نہیں ہے جو آپ کے اوپر غالب آ سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب اللہ تعالیٰ نے عالمی خطرات کی خبریں دیں اور زلازل کی خبریں دیں اور بتایا کہ بہت ہی خوفناک آگئیں ہیں جو تمام جہان کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گی تو ایسے بندوں کے متعلق بھی آپ کو خبر دی گئی جو خطرات کے وقت خدا کی پناہ میں آنے کے عادی ہو جایا کرتے ہیں جن کے دل میں خدا کا پیار ہوتا ہے۔تو آپ نے فرمایا: آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار (درین صفحہ ۱۵۴) پس جیسا کہ میں نے پہلے خطبہ میں بھی کہا تھا خدا کے پیار کے نتیجے میں خدا کی طرف دوڑنے کی عادت ڈالیں یہی آپ کی پناہ گاہیں ہیں۔ہر مشکل، ہر خطرے کے وقت، ہر امید کے وقت، ہر آرزو کے وقت، ہر نقصان کے وقت، ہر حرص کے وقت یہ سوچیں کہ میں اس حالت میں اپنے خدا کو کیسے پا سکتا ہوں۔یہ ہے وہ شعوری طور پر پناہ گاہ ڈھونڈ نا اور آپ حیران ہوں گے کہ کوئی انسانی حالت ایسی نہیں ہے جو انسان کو خدا کی طرف نہ لے جائے یا لے جانے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو۔ہر انسانی تجربہ دور ہیں رکھتا ہے یا خدا سے دور لے جانے کی راہ یا خدا کی طرف جانے کی راہ اور ہر روز