خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 880 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 880

خطبات طاہر جلدے 880 خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۸۸ء کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب اس کو سمجھایا کہ میں نے سنا ہے کہ تم نے اشتعال میں آکر کسی دشمن کو اور کسی معاند کو بہت سخت لفظ کہے ہیں تو تمہیں صبر کرنا چاہئے۔اس کے جواب میں اس نے کہا کہ میرے آقا! میں جانتا ہوں اس مضمون کو یعنی یہ الفاظ نہیں مگر اس قسم کی باتیں اس نے پیش کیں لیکن آپ مجھے تو صبر کی تلقین کرتے ہیں کہ جب آپ کے متعلق کوئی بات ہو تو میں صبر کروں لیکن جب حضرت محمد مصطفی ﷺ پر کوئی حملہ کرتا ہے آپ کا صبر ٹوٹ جاتا ہے، آپ برداشت نہیں کر سکتے۔تو میرا بھی یہی حال ہے۔آپ کی محبت اتنی غالب ہے میرے دل کے اوپر جب آپ کے اوپر کوئی حملہ کرتا ہے تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔تو اس لئے بعض ایسے حالات ہوتے ہیں جماعت کے اوپر بھی جن میں عام دنیاوی تعلقات سے بڑھ کر آزمائش پڑتی ہے اور بعض وقت ایک انسان کا صبر نہ کرنا ساری جماعت کو مصیبت میں مبتلا کر سکتا ہے۔کسی ایک وقت میں کسی مقام پر کسی شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق نہایت ہی غلیظ اور خبیثانہ زبان استعمال کی۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے میری قربانی کا وقت ہے مجھے ذبح کر دیں اب میں برداشت نہیں کروں گا لیکن سوال یہ ہے کہ وہاں اس ایک شخص کی غیرت کا سوال نہیں ہے تمام جماعت کے معصوم مردوں، عورتوں، بچوں، بوڑھوں کی حفاظت اور ان کے امن کا سوال ہے اور اعلیٰ جماعتی روایتوں کی حفاظت کا سوال ہے۔اس لئے جس شخص کو صبر کی عادت نہیں وہ بعض دفعہ اپنے تمام ساتھیوں اور اپنے گروہ کے لئے بھی مشکل کا موجب بن سکتا ہے اور ان کے لئے خطرات کا موجب بن سکتا ہے۔کئی دفعہ مجھے ایسی اطلاعات آئیں گزشتہ وقتوں میں جن سے پتا چلا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی حفاظت اس وقت نہ فرمائی ہوتی تو ایک یاد و یعنی غیور کہلانے والے احمدیوں کی وجہ سے ساری جماعت کو بڑی مصیبت پڑ سکتی تھی۔غیور کہلانے والے میں نے اس لئے کہا ہے کہ غیرت بھی کوئی ایسی صفت نہیں ہے جس کی حدود نہ ہوں اگر حدود کے اندر ہے تو غیرت ہے اگر حدود سے بڑھ گئی ہے تو وہ شوخی اور بیوقوفی بن جاتی ہے۔اس لئے اسلام توازن کا نام ہے۔جہاں غیرت صبر کی حدود سے باہر نکل جاتی ہے وہاں غیرت نہیں ہے دراصل وہاں حماقت ہے۔سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ ان حدود کو خود وسیع کر دے ایسے مقام بھی آتے ہیں جہاں غیرت کی کوئی انتہا نہیں رہا کرتی مگر وہ اس وقت موقع نہیں ہے وہ الگ مضمون ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی