خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 879
خطبات طاہر جلدے 879 خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۸۸ء سے باہر پھر شرک ہے یعنی غیر اللہ کی طرف حرکت کرنا ہے۔اگر انسان اشتعال پر صبر کر جائے اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی نصیحت کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ دیر گزار لے تو وہ جو وقت آتا ہے دھماکے کا وہ یکساں نہیں رہا کرتا کچھ دیر کے بعد اس کو سکون ملنا شروع ہو جاتا ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا صبر رفتہ رفتہ قناعت کی طرف لے کر جاتا ہے لیکن صبر کے مضمون کا وقت سے تعلق ہے ،صبر کو وقت چاہئے۔جب آپ صبر کو وقت ہی نہیں دیں گے تو پھر دھما کہ پیدا ہو جائے گا۔ہائی بلڈ پریشر ہو انسان اس کے ساتھ بیسیوں سال تک زندہ ہو لیکن جب وہ بلڈ پریشر مشتعل ہو کر انسانی دماغ کی رگ پھاڑ دے پھر تو اس کے لئے کوئی امید باقی نہیں رہتی اور اگر رہے گا بھی تو مفلوج کی طرح زندہ رہے گا کسی بنیادی انسانی طاقت سے محروم ہو کر زندہ رہے گا۔اس لئے اشتعال ویسی ہی چیز ہے جیسے بلڈ پریشر کا پارہ اچانک چڑھے اور انسانی کسی Valve پر یادماغ کی کسی رگ پر حملہ کرنے پر آمادہ ہو جائے اگر اس وقت آپ اس کو روک لیں تو پھر رفتہ رفتہ وہ کم ہونا شروع ہو جائے گا اور پھر وہ خطرے کا وقت ٹل جائے گا اور پھر آپ کی زندگی نارمل طریقے پر بسر ہو سکتی ہے۔اس لئے جماعت احمدیہ کو اشتعال پر قابو کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔خصوصاً اس لئے کہ جن اشتعالات کا ہمیں سامنا کرنا پڑتا ہے ان اشتعالات میں بعض ایسے بھی ہیں جو عام دنیاوی تجربے سے بڑھ کر ہیں۔مثلاً ماں باپ سے انسان کو محبت ہوتی ہے اور اتنی محبت ہوتی ہے کہ بعض دفعہ اپنی ذات کے خلاف انسان باتیں برداشت کر لیتا ہے، ماں باپ کے خلاف نہیں کر سکتا، بعض ماؤں کو بچوں سے ایسا پیار ہوتا ہے کہ دوسروں کے اوپر بات برداشت کرلیں گی ، خاوند پر کرلیں گی، اپنے اوپر کر لیں گی مگر بچوں پر کہی ہوئی بات برداشت نہیں کر سکتیں۔اسی طرح الہی تعلقات میں بھی بعض مقامات ایسے ہوتے ہیں کہ جن پر انسان بات برداشت نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ایک مرتبہ ایک گستاخ شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس حاضر ہوا اور نہایت بد تمیزی کی باتیں شروع کیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پورے صبر اور ضبط کا نمونہ دکھایا لیکن حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید بار بار بے قابو ہوتے تھے۔اس لئے نہیں کہ ان میں صبر نہیں تھا اس لئے کہ اپنے اوپر وہ یہ باتیں برداشت کر سکتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق نہیں کر سکتے تھے۔ایک اور شخص کے متعلق یہ واقعہ آتا ہے ایک صحابی کے متعلق