خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 881 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 881

خطبات طاہر جلدے 881 خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۸۸ء زندگی میں ایسی مثالیں ملتی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ بعض مقامات سے غیرتوں کی حدود بھی توڑ دی جاتی ہیں اور خدا کے لئے جو غیرت ہے بعض دفعہ لا محدود قرار دے دی جاتی ہے۔مگر وہ اپنے مقامات ہیں ان کے لئے ویسی حکمت کی ضرورت ہے اور اعلی عقل و دانش کی ضرورت ہے ان باتوں کو سمجھنے کے لئے۔مگر جہاں تک عام ایک احمدی کا تعلق ہے اس بات کو خوب اچھی طرح یا درکھیں کہ اگر آپ کو اپنے اشتعال کے وقت میں اپنے جذبات پر قابو کرنے کا سلیقہ نہیں اگر اس وقت آپ کو صبر نہیں آتا تو آپ اپنی ذات کے لئے بھی خطرہ ہیں، اپنے گھر کے لئے بھی خطرہ ہیں، اپنے معاشرے کے لئے خطرہ ہیں اور بعض صورتوں میں ساری جماعت کے لئے بھی آپ خطرہ بن سکتے ہیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں تو تو میں میں کرنا تو عام ہمارے گھروں میں دستور بن گیا ہے اور جہاں یہ دستور زیادہ ہو جاتا ہے وہاں پھر یہ بات بڑھتے بڑھتے بدکلامی کی عام عادت مستقل بدخلقی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔پھر گھروں میں تو تو میں میں، پھر گلیوں میں تو تو میں میں بن جاتی ہے۔سارا معاشرہ دکھنے لگتا ہے اس قسم کی بیہودہ حرکتوں سے تو روز مرہ کے وقت اشتعال کی حالت سے پہلے کی جو حالت ہے اس میں اگر آپ صبر نہیں سیکھیں گے تو آپ اشتعال سے بھی نہیں بچ سکیں گے۔روز مرہ چھوٹے چھوٹے غصوں کے وقت اپنی حفاظت کی ضرورت ہے کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ ہر روز کے عام غصوں سے تو اپنی حفاظت نہ کر سکیں اور مشتعل حالت میں آپ اپنی حفاظت کر سکیں۔ہر چیز کے لئے Exercise کی ضرورت ہوتی ہے، ورزش کی کثرت کی ضرورت پڑا کرتی ہے۔یہ جو معرفتیں ہیں یہ اچانک حاصل نہیں ہوا کرتیں۔روحانی ترقیاں کوئی ایسی چیز نہیں ہیں کہ اچانک آپ کو ایک دن میں روحانی ترقیات نصیب ہو جا ئیں۔جسمانی ترقیات کیوں نہیں نصیب ہو جاتی ایک دن میں، یہ دنیا کھیل نہیں ہے۔قانون قدرت ایک بہت وسیع نظام ہے جس کے تابع رہ کر ترقی ملا کرتی ہے۔محنت کرنی پڑتی ہے، لمبے سفر کرنے پڑتے ہیں، وقت کی قیمت کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔اس لئے جب میں آپ کو کہتا ہوں کے اشتعال کو قابوکریں تو ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ آپ نے میری بات سن لی، آپ کے دل پر اثر ہو گیا اور اب آج کے بعد آپ مشتعل نہیں ہو سکتے۔اگر اب اپنے گھروں میں جا کر آپ مشتعل ہو جاتے ہیں، اگر اپنے دوستوں کی مجلس میں آپ مشتعل نہ سہی یعنی عام غصے کے آثار ظاہر کرتے ہیں اور غصے کے وقت فوری بدلا لینے کی کوشش کرتے ہیں ، زبان کے چرکے لگا کر یا دل