خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 875 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 875

خطبات طاہر جلدے 875 خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۸۸ء عظیم قوت کو بھی اس کے مقابل پر شکست تسلیم کرنی پڑی۔عام طور پر جو انسان جن حالات میں بہت پہلے واویلا شروع کر دیتا ہے اور اس کی برداشت کی طاقتیں ٹوٹ جاتی ہیں ان عام حالات سے کہیں بڑھ کر ویت نامی قوم نے امریکنوں کے مقابل پر صبر دکھایا ہے۔تو Lie Low جس کو انگریزی میں کہتے ہیں بعض ایسے وقت آتے ہیں جہاں آپ کو اپنے نفس کو بھلا کر، اپنی خواہشوں کو بھلا کر خاموش بیٹھنا پڑتا ہے۔یہ بھی ایک قسم کی ہائبر نیشن ہے جس کا اطلاق انسانی زندگی پر بھی ہوتا ہے یعنی صرف حیوانی زندگی پر نہیں۔تو جن قوموں کو صبر کی یہ طاقت نصیب ہو کہ اگر مخالفانہ حالات ہیں تو کوئی حرج نہیں وقت بدلے گا، جب تک وقت نہ بدلے جس طرح بھی ہے ہم اس پر گزارہ کریں گے۔یہ صفت صبر کی ہے جو زندگی کی حفاظت کیا کرتی ہے لیکن یہ بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا دنیا میں اللہ نہیں ہوا کرتا بلکہ اپنے نفس کی خاطر ، اپنے قومی تقاضوں کی خاطر انسان اختیار کرتا ہے لیکن قرآن کریم جس صبر کی ہدایت کرتا ہے وہ للہ صبر ہے اور للہ صبر کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ انسان کی خطرات سے حفاظت ہوتی ہے بلکہ اس کو اس صبر کا بہترین پھل بھی عطا ہوتا ہے۔یہ صبر صرف ایک منفی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ ایک مثبت حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے بار ہا فرمایا ہے: اِنَّ اللهَ مَعَ الصَّبِرِينَ (البقرہ:۱۵۴) کہ جو لوگ اللہ کی خاطر صبر کیا کرتے ہیں وہ دیکھیں گے کہ اللہ ان کے پاس ہے اور صبر کے متعلق جن لوگوں کو بھی تجربہ ہے اور ہر انسان کو کچھ نہ کچھ تجربہ ہوتا ہے یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ صبر کے وقت کوئی ساتھی ہے یا نہیں ہے۔اگر صبر کے وقت کوئی ساتھی نہ ہو تو انسانی تکلیف بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور صبر کی طاقت اسی نسبت سے کم ہو جاتی ہے۔اکیلا صبر کرنا بہت مشکل کام ہے۔کوئی ساتھی ہو تو پھر وہ صبر کے لمحات نسبتاً آسان ہو جایا کرتے ہیں۔ویت نام وغیرہ میں بھی قوموں نے بحیثیت قوموں کے صبر کیا ہے۔اکیلے کیلے اس قسم کے حالات میں صبر ممکن نہیں ہوا کرتا۔کوئی بیمار ہوں،کیسی تکلیف ہواگر اس وقت اس کے ساتھ کوئی آدمی آجائے ، اس کی غمخواری شروع کر دے، اس سے باتیں شروع کر دے تو اس کی تکلیف میں بہت کمی آجایا کرتی ہے خواہ ظاہری درد میں اور بیماری میں کمی نہ بھی آئے۔تو صبر کے دوران کسی کا ہونا صبر کی طاقت بڑھاتا ہے اور تکلیف کی کمی کرتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے مومن سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اگر تو صبر کرے اور میری خاطر صبر کرے تو میں تجھے یقین دلاتا ہوں کہ صبر کے وقت تو