خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 876 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 876

خطبات طاہر جلدے 876 خطبه جمعه ۳۰ / دسمبر ۱۹۸۸ء مجھے اپنے ساتھ پائے گا۔اسکے نتیجے میں ہمیں کچھ ایسے مفید راز ملتے ہیں جس سے ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ایک بات تو یہ یاد رکھیں کہ اِنَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِينَ کا برعکس بھی ایک ہے کہ جو صبر نہیں کرتا خدا اس کے ساتھ نہیں ہوا کرتا۔پس فَفِرُّوا اِلَى الله (الذاریات: (۵۱) کا مضمون اس میں بیان ہو گیا کہ جب آپ صبر چھوڑ دیں گے تو خدا سے دور جارہے ہوں گے۔جب صبر کریں گے تو خدا کی طرف حرکت کر رہے ہوں گے۔پس ہر قسم کی بے صبری سے، ہر قسم کے صبر کی طرف حرکت کرنا خدا کی طرف حرکت ہے۔گویا کہ اگر صبر چھوڑیں گے تو شرک کی طرف آپ حرکت کریں گے۔غیر اللہ کی طرف حرکت کا مطلب ہی شرک ہے اور خدا پاس ہے ، خدا قریب ہے اس کے کیا معنی ہیں إِنَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِینَ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ صرف یہ کہ آپ کے مشکل وقت کو آسان فرما رہا ہے ، آپ کے قریب ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی غیر معمولی جزا بھی عطا فرمائے گا، آپ کی حفاظت فرمائے گا۔اگر خدا ساتھ ہے تو وہ قو تیں جن کی تکلیف سے آپ صبر کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اِنَّ اللهَ مَعَ الصَّبِرِین میں یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ ان قوتوں پر آپ کو غلبہ عطا ہو گا اور آپ کو فتح نصیب ہوگی۔پس اللہ صبر میں اور بغیر خدا کے صبر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔صبر میں بہر حال فائدہ ہے لیکن اللہ صبر میں اس سے بہت زیادہ فائدہ ہے جو بغیر اللہ کے محض عادت یا قومی یا حیوانی ضرورت کے تابع آپ صبر کرتے ہیں۔اس ضمن میں بعض خاص انسانی حالتوں کا ذکر ضروری ہے جہاں صبر نہ ہونے کے نتیجے میں ہمیں بہت سے مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔غصہ کی حالت ہے سب سے اہم۔روز مرہ کے تجربے میں ہم نے دیکھا ہے، ہم کسی بات پر اشتعال میں آجاتے ہیں اور اشتعال کے وقت جتنا صبر کی کمی ہو اتنا جلدی انسان فیصلہ کرتا ہے۔بیوی سے لڑائی ہوئی ، ساس کی بہو سے ہوگئی، خاوند کی بیوی سے یا رشتہ داروں سے، بہن کی بھائی سے، دوستوں کی دوستوں سے ہزار قسم کے انسانی تعلقات ہیں اختلافات ہو جاتے ہیں اور بعض دفعہ ایک دم انسان اشتعال میں آجاتا ہے۔اشتعال میں آنا اور عام غصہ کی حالت میں ایک فرق ہے۔جب میں کہتا ہوں اشتعال میں آجاتا ہے تو مراد یہ ہے کہ غصہ اچانک ایک دم اتنا بڑھتا ہے کہ انسان کہتا ہے کہ پھر جو کچھ ہو دیکھی جائے گی اب میں برداشت نہیں کر سکتا ، کافی ہوگئی