خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 873
خطبات طاہر جلدے 873 خطبه جمعه ۳۰ / دسمبر ۱۹۸۸ء ہے اسی کا نام شرک ہے اور خدا کے قوانین اور ہدایت کے تابع رکھنے کے لئے صبر کی ضرورت ہوتی ہے یعنی آزوؤں کو خدا کے قوانین اور ہدایات کے تابع رکھنے کے لئے صبر کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔چنانچہ وہ لوگ جو صبر کرنا جانتے ہیں اگر چہ ایک تکلیف کی حالت ہے لیکن صبر کے نتیجے میں رفتہ رفتہ ان کی تکلیف دور ہونے لگتی ہے اور وہ آرزوئیں جو سر اٹھاتی ہیں اور باغیانہ حالت اختیار کر جاتی ہیں اگر انسان صبر کرے اور اللہ صبر کرے تو ان کی باغیانہ حالت میں کمی آنی شروع ہو جاتی ہے ، ان کی شورش اور شوخی میں کمی آنی شروع ہو جاتی ہے اور رفتہ رفتہ انسان کو اسی حالت پر ایک چین مل جاتا ہے۔ایک قسم کا سکون نصیب ہو جا تا ہے۔پس صبر کے نتیجے میں ایک انسانی آرزوؤں کی سمت دوسرا رخ اختیار کرتی ہے واپسی شروع کر دیتی ہے اور صبر کا کمال انسان کو پھر قناعت تک پہنچا دیتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو انسانی زندگی کی ہر دلچسپی سے تعلق رکھتا ہے۔انسان جس چیز کو بھی کہتے ہیں ، جن خواہشات یا تمناؤں یا احساسات کا انسان مجموعہ ہے ان خواہشات ، ان تمناؤں، ان احساسات کے ہر پہلو سے یہ مضمون تعلق رکھتا ہے۔پس صبر کی بے انتہا ضرورت ہے اور اس دنیا میں رہتے ہوئے جہاں مادہ پرستی نے ہر طرف قیامت مچائی ہوئی ہے جماعت احمدیہ کے لئے صبر کو اختیار کرنا بہت ہی بنیادی ضرورت کی حامل چیز ہے۔اس کے بغیر ہم نہ اپنے نفسوں کو فتح کر سکتے ہیں ، نہ دنیا کو خدا کے لئے فتح کر سکتے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے ابھی گزارش کی تھی صبر کے ساتھ اللہ کا لفظ جوڑ نا ضروری ہے۔ایک صبر ہوا کرتا ہے بغیر خدا کے اور ایک صبر ہوا کرتا ہے خدا کے ساتھ اور خدا کی خاطر، ان دونوں صبروں میں فرق ہے۔بعض جانور بھی صبر کرنا جانتے ہیں لیکن وہ کوئی روحانی صفت نہیں۔چنانچہ بعض ایسے جانور ہیں جو ہائبر نیٹ (Hibernate) ہو جاتے ہیں۔یعنی سردیوں میں جب ان کو کوئی غذا میسر نہیں آتی تو وہ صبر کی اتنی غیر معمولی طاقت رکھتے ہیں کہ اپنے جسم کے اندرونی نظام کو ایک غیر شعوری پر یہ حکم دے دیتے ہیں یا کچھ شعوری طور پر پہلے دیتے ہوں گے پھر رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ نے ان کی استطاعت کو بڑھا دیا مگر بہر حال آخر پر پہنچ کر یہ غیر شعوری صورت بن جاتی ہے یعنی ان کا نفس خودان کی اپنی ذات پر، اپنی خواہشات پر، اپنے خون کی گردش پر اپنے دل کی دھڑکن پر پابندیاں لگا دیتا ہے کہ ٹھیک ہے تم بھی زندہ ہو لیکن حالات ایسے ہیں کہ تمہارے زندہ رہنے کی تمام صلاحیتیں اس وقت