خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 872
خطبات طاہر جلدے 872 خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۸۸ء کے اندر خدا تعالیٰ نے تمناؤں کا ایک لامتناہی سلسلہ پیدا کر دیا ہے یعنی اس کے بیج رکھ دیئے ہیں اور تمناؤں کی کوئی حد نہیں ہے اور کوئی ایسی سمت نہیں ہے جس سمت سے تعلق رکھنے والی کوئی انسانی تمنا موجود نہ ہو یا پیدا نہ ہوسکتی ہو۔تو اس پہلو سے چونکہ انسانی نفس قناعت کی بوتل سے باہر نکل کر آزاد ہو جاتا ہے اس کو روکنے کے لئے چاروں طرف صبر کی دیوار میں قائم کرنی پڑتی ہیں اور اگر صبر نہ ہو تو پھر اس کے بعد سوائے شرک کے کچھ بھی نہیں رہتا۔یعنی لازماً انسان کی ہر تمنا انسان کو اگر کلیہ آزاد ہو جائے اور صبر نے اس کو روکا نہ ہوا ہو تو وہ شرک کی طرف لے جائے گی۔بوتل کا جن کہتے ہیں جب آزاد بھی ہو جائے تو بعض وظائف سے بعض لوگ اس کو قابو کر لیا کرتے ہیں۔چنانچہ ایک زمانہ ایسا تھا جبکہ مسلمان علماء میں بکثرت اس بات کا چرچا ہوا کرتا تھا کہ کوئی ایسا وظیفہ معلوم ہو کہ کون سا وہ وظیفہ ہے جس سے ہم بوتل کا جن قابو کر لیں اور جنوں کے قابو کرنے کا مضمون پھر بڑھتے بڑھتے ایک آزاد نفس کی طرح خود اپنی ذات میں شاخیں نکالنے لگا۔شروع تو اس سے ہوا تھا کہ حضرت سلیمان کا جن جب آزاد ہوا تو اس کو قابو کرنے کے لئے کچھ وظیفے ہیں ان وظیفوں کی تلاش کی جائے اور اس کے بعد پھر ایک جن نہیں رہا ہزا رسمتوں میں ہزار جن پیدا ہو گئے۔ہر انسانی خواہش سے تعلق رکھنے والا ایک جن بن گیا اور مختلف وظائف ایجاد ہونے شروع ہوئے کہ ہم ان جنوں کو قابوکریں۔امر واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن کو قابو کرنے کا ایک ہی وظیفہ بیان فرمایا ہے وہ صبر ہے۔اگر انسان کو صبر کا سلیقہ آجائے اور صبر کا مضمون سمجھ آجائے تو پھر انسانی نفس کے آزاد شدہ ہر قسم کے جن انسان کے قابو آ سکتے ہیں۔اس مضمون کو مزید کھولتے ہوئے میں آپ کے سامنے صبر کے چند پہلو رکھنا چاہتا ہوں۔حرص و ھوئی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جب وہ آزاد ہو تو جہاں بھی آپ نے اس کو کھلی آزادی دی وہاں لازماً آپ کو خدا سے دور اور شیطان کے قبضہ میں لے جائے گی۔کوئی آرزو ہو، کوئی تمنا ہو جس حد تک بھی آپ اس پر غور کریں گے جب تک آپ اس کو سنبھالنے کی استطاعت نہیں رکھتے اس وقت تک وہ تمنالاز ما آپ کو کسی ایسے گناہ میں ملوث کرے گی جو غیر اللہ کے سامنے جھکنے پر آپ کو مجبور کر رہا ہو گا۔وہ آرزو جو خدا کے بنائے ہوئے قوانین اور اس کی ہدایت کے تابع پوری نہیں ہو سکتی وہ آرزو جب خدا کے بنائے ہوئے قوانین اور اس کی ہدایات سے باہر جا کر پوری کی جاتی