خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 871 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 871

خطبات طاہر جلدے 871 خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۸۸ء فرار الی اللہ کے ساتھ قناعت اور صبر کا تعلق ہے۔اشتعال کے وقت صبر کی بہت ضرورت ہے۔( خطبه جمعه فرموده ۳۰ دسمبر ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔گزشتہ جمعہ پر قناعت کا مضمون بیان کرتے ہوئے میں نے یہ گزارش کی تھی کہ قناعت کا فقدان انسان کو شرک کی طرف لے جاتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو شخص قانع نہیں وہ مشرک ہو جاتا ہے بلکہ قناعت کے فقدان کے نتیجے میں شرک میں مبتلا ہونے کے خطرے پیدا ہو جاتے ہیں اور قناعت اور شرک کے درمیان اللہ تعالیٰ نے صبر کی حفاظتی دیوار قائم فرمائی ہے۔اس لئے صبر کو دوسری تمام صفات میں ایک غیر معمولی مقام حاصل ہے اور قرآن کریم نے صبر پر بے انتہا زور دیا ہے۔ان کا آپس میں کیا تعلق ہے اس سلسلے میں میں اس مضمون کو کچھ مزید واضح کرنا چاہتا ہوں۔قناعت کی مثال تو اس خیالی جن کی طرح ہے جو حضرت سلیمان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بوتل میں بند کر دیا تھا۔اگر انسانی نفس بوتل میں بند کر دیا جائے اور اسے کھل کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے ، اسے اپنی مرضی سے جس طرف چاہے اس طرف سر اٹھا کر نکل بھاگنے کی اجازت نہ دی جائے تو گویا وہ حضرت سلیمان کا جن بوتل میں بند ہو گیا ہے اور اس کا نام قناعت ہے۔جب یہ جن ایک دفعہ بوتل سے آزاد ہو جاتا ہے تو انسانی نفس کو ہر سمت میں کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے اور بہت سی شاخیں پھوٹتی ہیں اور پھوٹتی چلی جاتی ہیں اور نفس کی طلب کی کوئی حد نہیں رہتی۔انسانی فطرت