خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 870 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 870

خطبات طاہر جلدے 870 خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۸۸ء دراصل مولویوں کا یہ جھوٹا پروپیگنڈا ہے۔تو یہ وہ دروازے ہیں جو احمدیت کی طرف آنے والی ہر راہ پر قائم کر دیئے گئے ہیں اور ان پر تالے لگا دئے گئے ہیں کہ اس راہ سے گزرکر تمہیں احمدیت میں داخل نہیں ہونے دینا۔مباہلہ کے نتیجے میں یہ دروازے ٹوٹا کرتے ہیں اور ان پر جب لعنت پڑتی ہے تو عبرت کا مضمون کھل کر دنیا کو سمجھ آتا ہے کہ عبرت کس کو کہتے ہیں۔اس لئے نہیں کہ ان کے دروازے ٹوٹنے پر ہمیں خوشی ہوگی بلکہ اس لئے کہ وہ دروازے جو حق کی راہ رو کے کھڑے ہیں ان دروازوں کے لئے ٹوشناہی بہتر ہوا کرتا ہے۔اس لئے اگر یہ کھل نہ سکے، حجت اور دلیل دروازہ کھولنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے قفلوں کے اندر چابی کے طور پر کام کرتی ہے۔یعنی قرآن کریم فرماتا ہے کہ بعض دل ایسے ہیں جن پر تالے ایسے پڑے ہوتے ہیں جن کی کوئی چابی نہیں ہوا کرتی۔اندھے اور بہروں کی طرح ہو جاتے ہیں۔پس مباہلہ کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا! ان دروازوں کو توڑ دے، ان تالوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے اور دین کی ترقی اور سچائی کی ترقی کی راہوں کو کشادہ کر دے تاکہ سب لوگ جوق در جوق پھر ان راہوں سے صداقت میں داخل ہو سکیں۔پس یہ وہ دعا ہے جو آپ کو کرنی چاہئے اور مجھے یقین ہے کہ یہ ایک نیاImpetus مل گیا ہے اس سے مباہلے کو۔تقریباً چھ ماہ گزرے تھے اور اگلے چھ ماہ کے لئے دوبارہ متوجہ کرنے کے لئے جماعت کو اللہ تعالیٰ نے یہ سامان فرما دیا ہے اور میں امید رکھتا ہوں جس طرح پہلے چھ ماہ میں خدا تعالیٰ نے عظیم الشان نشان دکھائے ہیں اور حیرت انگیز تاریخی نوعیت کے نشان دکھائے ہیں اسی طرح انشاء اللہ یہ باقی چھ ماہ بھی بلکہ اس کے بعد بھی اگلا سارا سال اور انگلی صدی پوری کی پوری صدی بھی اس مباہلہ کی برکتوں کے پھل کھاتی رہے گی۔پھر آئندہ اگلی صدی کے لئے خدا جن کو مباہلوں کے لئے کھڑا کرے گا پھر انشاء اللہ ان کی دعاؤں کے پھل اگلی صدی کو بھی عطا کرے گا یعنی مجھے یقین ہے کہ یہ مباہلہ ایک سال کا یا دو سال کا یا تین سال کا مباہلہ نہیں خدا تعالیٰ نے ایسے موقع پر بنایا ہے کہ اس کی رحمتیں اور اس کی برکتیں اور اس کے پھل اگلی صدی میں آنے والی ساری مخلوق کو عطا ہوتے چلے جائیں گے جو خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت کے ساتھ صداقت کو قبول کرے گی۔اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے اور ان کی سب لعنتوں کو ان پر لعنتیں بنا کر برسائے جو لعنت ڈال رہے ہیں۔ان پر نہ کہ باقی غریبوں اور مظلوموں اور بیچاروں پر جن کو کچھ پتا نہیں کہ احمدیت کیا ہے اور ان کی ہر لعنت ہم پر خدا کی رحمتوں اور برکتوں کے پھول بن کر آج بھی بر سے کل بھی بر سے اور آئندہ ہمیشہ برستی رہے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین۔