خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 831 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 831

خطبات طاہر جلدے 831 خطبه جمعه ۹ ردسمبر ۱۹۸۸ء قسم سے آپ واقف نہیں ہوں گے آپ صحیح قدم نہیں رکھ سکتے۔اتنی قسمیں ہیں ہلاکت کی اور موت کی اتنی زیادہ شکلیں ہیں اور ہرلمحہ، ہر سانس میں موت کی بے شمار شکلوں سے ہمیں واسطہ پڑتا ہے کہ جب تک ہم ان سے باخبر نہ ہوں اس وقت تک ہمارے زندہ رہنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔اب یہاں بھی فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُولُهَا کا ایک نہایت ہی حسین منظر ہمیں دکھائی دیتا ہے جو انسانی زندگی پر اطلاق پاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔حیوانی زندگی پر بھی اسی طرح اس کا اطلاق ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے ہمارے شعور کے بغیر ہمارے جسم کے ہر ذرے میں اس کے فجور کا الہام کر رکھا ہے اور جسم از خود اس فجور کو رد کرتا چلا جاتا ہے اور تقویٰ کا جو الہام کر رکھا ہے لیکن اگر فجور اس کو رد نہیں کر سکتا تو اس کا تقویٰ بالکل بے معنی اور بے حقیقت ہو کر رہ جاتا ہے۔تقویٰ کی مثال یہاں مثبت رنگ میں غذا سے لے سکتے ہیں۔انہضام کا نظام ہے، غذا کھانا اور اس کو جسم میں ہضم کرنا اور اس کو صالح خون کا حصہ بنانا۔اب آپ یہ دیکھیں کہ ایک صحت مند آدمی بھی غذا کھا رہا ہوتا ہے اور اس کو جزو بدن بنا رہا ہوتا ہے، ایک صالح خون اس سے بن رہا ہوتا ہے۔لیکن ایک بیمار آدمی ہے وہ بعض دفعہ غذا کھانا تو در کنار غذا کے تصور سے بھی گھبراتا ہے اور اگر کھاتا ہے تو بریکار جاتی ہے۔اس لئے کہ بیمار آدمی کی شکل ایسی ہے کہ اس نے فجور سے اپنا تعلق نہیں تو ڑا، جوکسی فجور میں سے کسی ایک جرم میں مبتلا ہو چکا ہے، کسی ایک آفت کا شکار ہو گیا ہے اور وہ لاکھوں کروڑوں احتمالات میں سے صرف ایک احتمال ہوتا ہے۔مثلاً اسے گردے کی کوئی تکلیف ہو گئی ہے، جن جن باتوں سے گردے کی حفاظت ہونی چاہئے اس کا بھی اندرونی ایک نظام موجود ہے اور اتنا وسیع ہے کہ اگر اسی پر آپ غور شروع کریں تو آپ حیران ہوں گے دیکھ کر کہ بڑے بڑے صاحب علم و عقل محققین نے بڑی بڑی کتابیں ضخیم کتا ہیں اس مضمون پر لکھی ہیں اور وہ ساتھ اقرار کرتے ہیں کہ یہ مضمون تو ہمارے علم کی حد سے ابھی بہت آگے ہے اور ہم اس کا احاطہ نہیں کر سکتے۔مستقل تحقیق جاری ہے کہ گردہ کیوں کام کرتا ہے، کس طرح کام کرتا ہے، کیا کیا اس میں خطرات پیدا ہوتے ہیں۔ہر بیماری کے جو علل ہیں، جو وجوہات ہیں وہ کتنی ہیں ، کیا کیا ہیں، کس طرح کام کرتی ہیں۔ابھی تک تو اس مضمون کا ایک معمولی سا حصہ انسان کو سمجھ آیا ہے۔تو کسی ایک طرف سے فجور میں سے کسی نے حملہ کر دیا اور آپ کا سارا تقویٰ بریکار چلا گیا انسانی جسم نے غذا کھانی بند کر دی یا غذا کھائی تو اس کا جسم کو لگنا