خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 832
خطبات طاہر جلدے 832 خطبه جمعه ۹ر دسمبر ۱۹۸۸ء بند ہو گیا، وہ مسلسل گھلنا شروع ہو گیا۔اس کی وہ غذا کے حصے جو جزو بدن بن چکے تھے وہ بھی پچھل پگھل کر باہر آنے لگ جاتے ہیں۔گردے کی ایک بیماری سے یا خون جاری ہونا شروع ہوتا ہے تو آپ کسی طرح اس کو بند نہیں کر سکتے۔ڈاکٹر عاجز آجاتے ہیں۔آپریشن کرتے ہیں پھر بھی چارہ نہیں ہوتا یہاں تک کہ انسان ، کئی بیمار اچھے بھلے پیدا ہوئے ہوئے خون کو بھی گردہ کے ذریعے کھو دیتے ہیں۔جس کا کام تھا کہ فجور کو باہر نکالے اور تقویٰ کوسنبھالے۔تو خود چونکہ فجور میں مبتلا ہوا اس لئے اب اس کام کا اہل نہیں رہا۔اس بیماری کی تفصیل یہ بنتی ہے کہ وہ گردہ جس کو خدا نے فجور کو یعنی ٹاکسینز (Toxins ) کو نکالنے کے لئے اور تقویٰ کو سنبھالنے کے لئے پیدا فرمایا تھا وہ خود ہی بیمار ہو گیا اور اس نے ٹاکسینز (Toxins ) کو سبنھالنا شروع کر دیا اور تقویٰ کو نکالنا شروع کر دیا۔Albuminuria کی بیماری ہوا کرتی ہے ایک جس میں انسانی جسم کی Albumin نکلنے شروع ہو جاتے ہیں پیشاب کے رستے۔وہ بھی یہی چیز ہے۔بعض ایسی بیماریاں ہیں ان میں Naphritous کے نتیجے میں جو پیدا ہوتا ہے Albuminuria اس کا کوئی علاج ڈاکٹر کہتے ہیں ہمارے پاس نہیں ہے اور ایسی صورتوں میں گردہ ہمیشہ برعکس کام کرتا ہے اس چیز کے فجور کی حفاظت کرتا ہے اور تقویٰ سے بچتا ہے۔انسان بھی جو فجور کا شعور کھو دیتا ہے اس کا یہی حال ہو جاتا ہے اور اس کا تقویٰ بھی ختم ہو جاتا ہے اور بسا اوقات بالکل یہی نظارہ آپ انسانی زندگی میں دیکھیں گے کہ وہ تقویٰ سے بھاگتا ہے اور فجور کو اپنا لیتا ہے۔قرآن کریم نے اس کی مثال بیان فرمائی: فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَةً فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ (المر : ۵۰-۵۲) فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ ) کیا ہو گیا ہے ان لوگوں کو کیسے پاگل اور بیمار ہو گئے ہیں کہ نیک باتوں اور نصیحتوں سے بھاگ رہے ہیں كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ گویا یہ بد ے ہوئے گدھے ہیں فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ جوشیر کو دیکھ کر دوڑے ہیں۔تو جیسا کہ میں نے انسانی بدن کے ایک جز کی مثال آپ کے سامنے رکھی ہے جب یہ بیماری روحانی طور پر انسانوں میں پھیلتی ہے تو بالکل یہی نظارہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ تقویٰ کی باتوں سے دوڑتے ہیں اور گھبراتے ہیں اور متنفر ہو جاتے ہیں۔حُمر مستنفر بہت ہی خوبصورت مثال قرآن کریم نے بیان فرمائی اور ساتھ گدھا کہہ کر یہ بتا دیا کہ ان کی عقلیں ماری جاتی ہیں۔