خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 830 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 830

خطبات طاہر جلدے 830 خطبه جمعه ۹ر دسمبر ۱۹۸۸ء بعد ، اتنی تیاریوں کے بعد جب آخر انسان کی منزل پہنچی اور جب ہم نے براہ راست اسے الہام کرنا شروع کیا اور اسے بتایا کہ دیکھو جسے ہم تقویٰ کہتے ہیں اسی میں تمہاری فلاح ہے اور تمہاری فجور بھی ہم نے تمہیں بتا دئے ہیں جن کو ہم فجور بتائیں گے ان سے بچنے میں تمہاری فلاح ہے۔اس کے باوجود وہ تقویٰ کی طاقتوں کو دباتا ہے اور فجور کی طاقتوں کو ابھارتا ہے۔جس نے ایسا کیا وہ ذلیل ورسوا ہوا اور جس نے اس کے برعکس کام کیا وہ لازماً کامیاب ہوا۔تو وہ تقویٰ جس کا قرآن کریم ذکر فرماتا ہے اس کا آغا ز تو اربوں سال پہلے سے ہوا تھا اور جب تک اس تقویٰ میں زندگی بے اختیار تھی، مجبور تھی ، اس تقوی کو اختیار کرنے پر وہ مسلسل ترقی کرتی رہی ہے۔جب زندگی نے اپنے اختیار سے کام لے کر اس تقویٰ کی راہ کو چھوڑا ہے تو پھر اس کا آخری مقام زندگی کے آغاز کے مقام سے مل جاتا ہے۔چنانچہ سورۃ التین میں قرآن کریم نے اسی مضمون کو بیان فرمایا کہ ہم نے تو انسان کو بہترین تقویم سے پیدا فرمایا تھا لیکن دیکھو یہ کیسا ذلیل اور رسوا ہو گیا کہ اپنی گراوٹ کے انتہائی مقام پر لوٹ گیا۔یعنی مطلب یہ ہے کہ جہاں سے اس کا سفر شروع ہوا تھا اسی مقام تک واپس چلا گیا جو کچھ سیکھا تھا سب کچھ بھلا دیا۔اس لئے تقویٰ کا لفظ کوئی معمولی لفظ نہیں ہے اس پر بڑے گہرے غور اور تدبر کی ضرورت ہے اور جیسا کہ میں نے ایک خطبہ میں بیان کیا تھا۔فجور سے واقفیت ضروری ہے ورنہ تقویٰ کا مفہوم سمجھ نہیں آسکتا۔قرآن کریم نے ان دونوں باتوں کو اکٹھا پیش فرمایا ہے۔فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُو تھا اور لطف یہ ہے اس آیت کی فصاحت اور بلاغت کا یہ کمال ہے کہ اگر چہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں بالعموم یہ طریق اختیار فرماتا ہے کہ حسن کا پہلے ذکر کرتا ہے اور فتح کا بعد میں، اچھائی کا پہلے اور برائی کا بعد میں۔لیکن یہاں فرمایا فَأَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقُوبَهَا ہم نے اس کے فجور بھی اس پر الہام کئے اور اس کا تقویٰ بھی اس پر الہام کیا۔مطلب یہ ہے کہ جب تک پہلے فجور کی واقفیت نہ ہو حقیقت میں انسان تقویٰ کے مفہوم اور تقوی کی سچی روح کو پانہیں سکتا۔اسی لئے میں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ انسان کو اپنی معرفت بڑھانے کے لئے فجور کے اوپر غور کرنا چاہئے ، ان باتوں پر غور کرنا چاہئے جو اسے ہلاکت کی طرف لے کر جاتی ہیں۔مادی زندگی میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ طب کا شعبہ ہے مثلاً اس میں انسانی زندگی کے جتنے خطرات ہیں اگر آپ ان کا مطالعہ کریں تو آپ حیران ہوں گے کہ بے انتہا فجور ہیں۔جب تک ہر قدم پر پیش آنے والے فجور کی کسی