خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 829 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 829

خطبات طاہر جلدے 829 خطبه جمعه ۹ر دسمبر ۱۹۸۸ء بھی نظام اور موجود نہیں۔ان میں سے بعض ایسے ہیں جن کی آنکھیں بھی کوئی نہیں ، کان بھی کوئی نہیں اور ان سب کو پتا ہے کہ ہم نے کیا کھانا ہے اور کیا رد کرنا ہے۔وہ منہ مارتے ہیں ہر چیز پر پھر وہ ایک لمبی سی ٹیوب سے وہ چیز، ذرہ گزرتا چلا جاتا ہے۔جس چیز کو رد کرنا ہو اس کو اسی طرح وہ باہر پھینک دیتے ہیں۔جس چیز کو اختیار کرنا ہو اس کو وہ قبول کر لیتے ہیں۔تو کائنات میں خدا تعالیٰ نے جو عقل اور سچائی ودیعت فرمائی ہے اس کے اتنے مظاہر ہیں کہ ان کا کوئی شمار مکن نہیں ہے۔یہی وہ چیز تقویٰ ہے جس سے ترقی کرنی شروع کی اور اسی تقویٰ کے نتیجے میں عقل وجود میں آئی ہے۔اسی لئے ان جانوروں کی مثال سے ہٹ کر میں نیچے اتر آیا جہاں ابھی عقل پیدا نہیں ہوئی تھی۔ان جانوروں کی باتیں شروع کیں تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ در حقیقت تقویٰ کا آغاز سچائی سے اور اس بات کے شعور سے ہوتا ہے کہ کون سی چیز اچھی ہے اور کون سی بری ہے۔جب یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ عمل کرتی ہیں اور تجربہ وسیع ہونے لگتا ہے۔تو ایک بہت ہی لمبے عرصے میں رفتہ رفتہ ترقی کرتے کرتے زندگی انسان کی منزل کی طرف حرکت کرتی ہوئی آخر وہاں پہنچ جاتی ہے اور وہاں پہنچ کر وہ انسان پیدا ہوتا ہے جس کو پھر خدا اگلے سبق دینے کے لئے الہام کی دوسری شکلیں اس پر نازل فرماتا ہے اور دین میں اور ان باتوں میں جو موت کے بعد کی زندگی سے تعلق رکھتی ہیں ان باتوں میں اسے تقویٰ اور اس کے فجور سمجھائے جاتے ہیں۔اب انسانی تجربہ دراصل انسانی عرصہ حیات تک محدود نہیں ہے جیسا کہ میں نے آپ کے سامنے کھول کر رکھا ہے۔انسانی تجر به تو دراصل حیوانی زندگی کے آغاز سے شروع ہوا ہے اور اربوں سال تک انسان کو اس نالی میں سے گزارا گیا ہے تا کہ وہ سیدھا ہو جائے۔جس طرح بندوق کی نالی جتنی لمبی ہو اتنی دیر تک گولی سیدھی راہ پر چلتی ہے، سید ھے رستے پر چلتی ہے۔جتنی چھوٹی ہواتنی گولی جلدی اپنی راہ سے بدک جاتی جاتی ہے۔اسی طرح قرآن کریم کی اس آیت نے ہمیں بتایا کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو سیدھا کرنے لئے اتنی لمبی نالی بنائی ، اتنی لمبی نالی بنائی کہ ساری انسانی زندگی اس نالی سے نکلنے کے بعد یوں لگتا ہے جس طرح کروڑوں میل کی نالی سے نکلنے کے بعد صرف ایک گز باقی زندگی رہ گئی تھی اور انسان کا کمال دیکھیں کہ وہیں سے اس نے کبھی شروع کر دی۔چنانچہ اس آیت کا اگلا حصہ فرماتا ہے کہ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكْهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسمان (الشمس: ۱۰۔۱۱) اتنے لمبے انتظام کے