خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 811 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 811

خطبات طاہر جلدے 811 خطبه جمعه ۲ / دسمبر ۱۹۸۸ء جاتا ہے اور طرح طرح سے ان کو دکھ دئے جاتے ہیں اسی ملک میں ان کی صبح کو سرخ صبح کہا جا سکتا ہے۔پھر کچھ لوگ ہیں جو دولت سے کھیلنے لگتے ہیں جن کے لئے ملک کی ساری سبزی ساری طراوت ان کی جھولی میں انڈیل دی جاتی ہے ان کی صبح کو پھر سبز صبح بھی کہہ سکتے ہیں یا روپے کی مثال کی تمثیل کے ساتھ رو پہلی صبح بھی کہہ سکتے ہیں لیکن اس صبح کے مالک جو ہیں جو اس صبح کی تقدیر بنانے والے ہیں ان کو اس صبح کے سارے رنگ میسر آتے ہیں کچھ اپنوں کے لئے ، کچھ غیروں کے لئے اس لئے میں نے کہا کہ ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جن کی حالت عام قانون قدرت سے بنائی جانی والی صبح کی حالت جیسی ہوا کرتی ہے۔اس لئے یہ جو سورج طلوع ہونا اور نیا دن چڑھنا یہ محاورے جب آپ سنتے ہیں تو درحقیقت ان سے کچھ بھی سمجھ نہیں آتی کہ کیا واقعہ ہوا ہے۔جب تک یہ دن چڑھانے والوں کے دلوں کی حالت کا ہمیں علم نہ ہو ، جب تک ان کی نیتوں سے ہم آگاہ نہ ہوں، جب تک ان کی طاقتوں سے ہم واقف نہ ہوں کہ اگر اچھی نیتیں رکھتے بھی ہیں تو کیا ان اچھی نیتوں کو بروئے کارلانے کی طاقت بھی رکھتے ہیں یا نہیں؟ اس وقت تک کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی صبح کس طرح کی طلوع ہوئی ہے۔خدا تعالیٰ نے جو سورج بنایا ہے، خدا تعالیٰ نے جو صبح بنائی ہے اس میں جو روشنی آپ دیکھتے ہیں ، وہ سفیدی جو ایک خاص قسم کی سفیدی ہے، سفیدی کے سوا اس کے لئے کوئی اور لفظ ہمارے پاس نہیں اس لئے ہم اسے سفیدی کہہ دیتے ہیں مگر قرآن کریم کی اصطلاح میں اسے نور کہا جاتا ہے۔وہ نور دراصل انصاف سے بنتا ہے اور وہ اہل دانش جنہوں نے روشنیوں کی حقیقت پر تحقیق کی ہے وہ بتاتے ہیں کہ جس کو ہم ایک سفید نما نور دیکھتے ہیں دراصل یہ مختلف رنگوں کی آمیزش سے بنی ہوئی ایک کیفیت ہے اور ان رنگوں نے آپس میں کامل امتزاج کیا ہے یا یوں کہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان رنگوں کو آپس میں ایک کامل امتزاج کے ساتھ یک جان بنا دیا ہے اور ان کا امتزاج ایسا منصفانہ ہے کہ ان رنگوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو بے چینی سے اپنی الگ شخصیت کو ظاہر کرے کیونکہ جب کامل انصاف ہو تو سارے رنگ ایک دوسرے میں مدغم ہو جایا کرتے ہیں اور کوئی رنگ اپنی بیقراری اور بے چینی کے ذریعے اپنی الگ شخصیت کو ظاہر نہیں کیا کرتا۔اس لئے یہ جو میں نے انصاف کا لفظ استعمال کیا ہے یہ محض کوئی فرضی بات نہیں حقیقت ہے۔جہاں بھی آپ رنگوں کے اس