خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 810 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 810

خطبات طاہر جلدے 810 خطبه جمعه ۲ / دسمبر ۱۹۸۸ء جیسے ہوں۔امر واقعہ یہ ہے کہ ہر سورج کی صفات اس کے بنانے والے کی ، اس کے خالق کی صفات کا نقش لئے ہوئے ہوتی ہیں۔ہر صبح کا فیصلہ کہ وہ کیسی صبح ہے اس کے بنانے والے کی اپنے مزاج ، اس کے اپنے بنانے والے کی اپنی نیت ، اس کے بنانے والے کے اپنے اطوار کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔یہ فیصلہ اگر میں نے کہا تھا تو مجھے کہنا چاہئے کہ یہ فیصلہ اس بات سے تعلق رکھتا ہے کہ اس صبح کو بنانے والا کیسا ہے؟ چنانچہ اس پہلو سے جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں جتنی بھی انقلابی میں طلوع ہوا کرتی ہیں یا جمہوری میں طلوع ہوا کرتی ہیں یا نظریاتی صبح میں طلوع ہوا کرتی ہیں ان سب کے رنگ جدا جدا ہوتے ہیں۔بعض تبدیلوں کو دنیا صبح کا نام دیتی ہے اور ان صبحوں کا رنگ گہرا سرخ ہوتا ہے اور انسان کے خون سے ہولی کھیلنے کے بعد وہ صبح بنتی ہے۔بعض جگہ جب ہم صبح کی باتیں کرتے ہیں تو ان صبحوں کا رنگ سبز ہوتا ہے، کہیں ان صبحوں کا رنگ سیاہ ہوتا ہے، کہیں ان صبحوں کا رنگ ملا جلا کالے، سیاہ، سرخ اور سبز کے ساتھ اس طرح گڈمڈ ہو کر ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ صبح کا رنگ کیا ہے۔خصوصاً ایسے ممالک جہاں رشوت ستانیاں عام ہوں، جہاں نا انصافیاں عام ہوں وہاں کی صبح بھی اس کے مختلف رنگ بیک وقت لئے ہوئے ہوتی ہیں۔چنانچہ اسی ملک کے باشندے ایک صبح میں نار یک خطے میں زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں، اسی صبح کے بعض باشندے ایک حصے میں ایک سبز رنگ کے حصے میں بھی زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں ، اسی ملک کے بعض باشندے سرخ رنگ کے خطے میں زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں اور کچھ باشندے ایسے ہوتے ہیں جن پر پوری طرح اسی طرح کی صبح طلوع ہو چکی ہوتی ہے جیسے ہم قانون قدرت کی بنائی ہوئی صبح کو دیکھتے ہیں۔چنانچہ یہ جو تمثیل ہے یہ محض کوئی شاعرانہ تمثیل نہیں بلکہ حقیقہ بعینہ دنیا کے حالات پر اطلاق پاتی ہے۔بعض ممالک ہیں جہاں حکمران جمہوریت کے نام پر اوپر آتے ہیں ان کے لئے روشنی ہی روشنی ہے اور ان کے ساتھیوں کے لئے روشنی ہی روشنی ہے لیکن بعض ان سے اختلاف رکھنے والے انتہائی تاریکی کی حالت میں دن بسر کر رہے ہوتے ہیں ان کا مستقبل روشن نہیں ہوتا ان کو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ ہم سے کیا بنے گا اور ہمارے ساتھ کیسے سلوک کئے جائیں گے۔پس آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک کے کچھ لوگ ابھی تاریکی میں بسر کر رہے ہیں۔کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کو مظالم کا نشانہ بنایا