خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 804
خطبات طاہر جلدے 804 خطبه جمعه ۲۵ /نومبر ۱۹۸۸ء نقصان ہے کیونکہ یہ مستقبل کے احمدی ہیں دراصل جن کو ہم اپنے ہاتھ سے ضائع نہیں کرنا چاہتے۔بعض دفعہ دیکھا نہیں آپ نے کہ دنیاوی جنگوں میں مقابل پر صف آرائیاں جب ہوتی ہیں تو بعض اچھے اچھے لوگ بھی مارے جاتے ہیں لیکن جب فتح ہو جاتی ہے ایک فوج کو تو مقابل میں سے ایسے ایسے اچھے سپاہی بھی نکلتے ہیں جو آئندہ کے لئے اسی ملک کی حفاظت میں جس کو فتح کرنے آئے تھے اپنی جان پیش کر دیتے ہیں۔تو روحانی مقابلے میں تو ایسے لوگوں کی زیادہ اہمیت ہے۔اس لئے ان کو تو با قاعدہ مل کر صورتحال ان پر واضح کرنی چاہئے ، ان کو بعض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھنے کے لئے دینی چاہئیں اور کہنا چاہئے کہ آپ مزید غور کر لیں اور ہم درخواست کرتے ہیں کہ پورے غور کے بعد پھر فیصلہ کریں اور ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں ، یہ تحریر دینے کے لئے تیار ہیں کہ اتنی مدت کے بعد اگر آپ نے پھر یہ فیصلہ کیا تو ہمیں منظور ہے یعنی ہم مباہلے سے بھاگ نہیں رہے۔جہاں تک چھوٹی سطح پر ایسی کوششوں کا تعلق ہے ایک مثال میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جاپان سے ایک احمدی نوجوان نے خط لکھا کہ یہاں ایک دوست ہیں ویسے بڑے شریف آدمی ہیں لیکن مباہلے کے معاملے میں وہ ایسا بھڑ کے ہیں ، انہوں نے کہا کہ بس مجھے منظور ہے اور مجھے کوئی کسی شرط کی ضرورت نہیں، میرے سے دستخط کرواؤ اور یہ لے جاؤ اور واپس بھیج دو۔وہ کہتے ہیں ویسے چونکہ یہ شریف آدمی تھے، اچھے اخلاق والے تھے میں نے ان کو بہت سمجھانے کی کوشش کی بار بار کہا کہ میاں! بس کرو مجھے پتا ہے کہ یہ معاملہ سنجیدہ ہے تم مارے جاؤ گے تمہیں نقصان پہنچے گا۔انہوں نے کہا جی! مجھے پتا ہے جو کچھ میں نے کہا ہے بالکل ٹھیک کہا ہے۔میں تمہاری بات سننے کے لئے تیار نہیں۔کہتے ہیں میں پھر گیا پھر اس کا یہی جواب آخر اس نے مجھے کہا کہ تم سال کے بعد بھی آؤ گے تو میرا یہی جواب ہوگا۔انہوں نے پوچھا اچھا پھر بتاؤ تم کیا چاہتے ہو تمہارے نزدیک کیا نشان ہے سچائی کا۔انہوں نے کہا میرے نزدیک سچائی کا نشان یہ ہے کہ ایک سال کے اندر اندر میں مر جاؤں تو احمدیت کچی اور میں جھوٹا۔اس صورت میں وصیت کر جاؤں گا اپنی اولاد کے نام کے وہ سارے احمدی ہو جائیں اور دوسرا یہ ہے کہ میرا جو کاروبار ہے تمہیں پتا ہے اچھا چمک رہا ہے اس کو کوئی ایسا نا گہانی نقصان ہو عام روز مرہ کا نقصان نہیں، جس سے مجھے پتا لگے کہ ہاں یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی نشان ہے۔تو اس احمدی نوجوان نے کہا اچھا پھر جو تم کہتے ہو اس طرح منظور اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آج