خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 805
خطبات طاہر جلدے 805 خطبه جمعه ۲۵ /نومبر ۱۹۸۸ء کے بعد پھر مباہلہ شروع۔اس واقعہ کے دو ماہ کے اندر اندر اس کے گودام میں بہت بڑی چوری ہوئی جو جاپان کے اندر ایک غیر معمولی واقعہ ہے اور ایک لاکھ ڈالر سے زائد کے قیمتی قالینوں کا نقصان ہو گیا۔ہمیں اس کے نقصان پر ہمدردی ضرور ہے لیکن یہ وہ نشان تھا جو اس نے خود اپنے منہ سے طلب کیا تھا۔اب وہ صاحب کیا رد عمل دکھاتے ہیں یہ ہے وہ اصل چیز جو فیصلہ کرے گی کہ مباہلہ سودمند تھایا ایک شخص کا ضیاع ہو گیا ہے۔اس لئے میں بار بار یہ توجہ دلاتا ہوں کہ ایسے نشانات انفرادی طور پر بھی خدا جگہ جگہ دکھا رہا ہے اور ہم ان کو اکٹھا کر رہے ہیں لیکن اصل دعا پھر یہی ہونی چاہئے کہ اے خدا! بالآخر ہم تجھ سے ہدایت کی التجا کرتے ہیں۔اس کے نتیجے میں ان لوگوں کو دلوں کی روشنی نصیب کر۔اگر ظاہری کچھ نقصان ہو گیا ہے تو کم سے کم دینی فائدہ ہی پہنچ جائے۔ایسے لوگوں کو سمجھانے کے بعد اگر وہ انکار کرتے رہیں تو پھر جو شرطیں ہیں وہ ان سے با قاعدہ پھر منوانی چاہئیں کیونکہ مباہلہ اگر انفرادی طور پر بھی ہو تو یہ مقصد نہیں ہے کہ ایک شخص کو انفرادی طور پر خاموشی سے خدا پکڑ لے۔اس کی مرضی ہے بعض دفعہ پکڑ بھی لیتا ہے۔مباہلے کا مقصد دوسروں کے لئے ہدایت ہے۔دوسروں کے لئے نشان نے گواہ بننا ہے۔اس لئے ہم نے اس کے اعلان یہ میں شرط رکھی ہوئی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی ہمیشہ یہ شرط رکھا کرتے تھے کہ ایسے مباہلے کا اخبارات میں اعلان ہونا چاہئے۔چنانچہ ایسے صاحب کو پھر کہنا چاہئے کہ اس شرط کو پورا کرو اور دوسرے یہ وضاحت اس سے طلب کرنی چاہئے کہ ان دومباہلوں میں سے تم کون سا قبول کر رہے ہو۔ایک مباہلے کا وہ چینج ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے الفاظ میں دیا جو ہمیشہ کے لئے جاری چیلنج ہے اور اس کے متعلق میں نے بتایا تھا کہ ہم نمائندہ ہیں آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اور جو بھی جھوٹوں پر بلائیں پڑا کرتی ہیں ہم اس کے لئے اپنی جان کو پیش کرتے ہیں اگر نعوذ باللہ من ذالک ہم جھوٹے ہیں۔اس چینج میں یہ بھی ذکر ہے کہ اس کتاب کو پڑھ لو اور وہ حقیقۃ الوحی ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس لئے اس شرط کو داخل فرمایا تا کہ اس کتاب کو دیکھ کر ایک آدمی جس کے اندر سعادت ہے اس کی آنکھیں کھل سکتی ہیں تو کھل جائیں اور خواہ مخواہ ضائع نہ ہو۔تو یہ شرط پیش کرنی چاہئے اور سمجھانا چاہئے کہ آپ یہ کتاب پڑھ لیں اگر وہ انکار کرتا ہے اور