خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 803
خطبات طاہر جلدے 803 خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۸۸ء خود پینج دے چکا ہوں لیکن مجھے لگتا ہے وہ آدمی شریف ہے، نا سمجھ ہے۔آپ پہلے کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب حقیقۃ الوحی جس کا ذکر ملتا ہے اس کو پڑھ لیں اور لٹر پچر کا مطالعہ کر لیں ، کچھ سوال پوچھنے ہیں تو آجائیں مسجد میں۔چنانچہ یہ پیغام ان کومل گیا۔ایک شام کو مغرب کے بعد سوال و جواب کی مجلس میں ایک صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے پے در پے سوال کرنے شروع کئے اور جماعت کے بعض دوستوں نے ان کو بٹھانے کی بھی کوشش کی میں نے کہا نہیں بالکل نہیں بٹھانا آپ ان کو بولنے دیں۔چنانچہ رفتہ رفتہ وہ سوالات کے جواب سے مطمئن ہونے لگ گئے اور پھر کھڑے ہو کر یہ کہنے لگ گئے کہ ان لوگوں کو نہیں یہ جواب آتے میں تو ان سے پوچھا کرتا تھا یہ مجھے جواب ہی نہیں دیتے تھے۔آپ کے مربی نے یہ نہیں کیا، آپ کے فلاں نے یہ جواب دے دیا، غلط جواب دے دیا۔یہ جواب مجھے دیا میں نے کہا ٹھیک ہے یہ غلط ہے۔کہا دیکھا میں سچا تھا یہ غلط نکلے اور بڑی بڑی دلچسپ باتیں شروع کر دیں اور ساری تفصیل سے اپنے گزشتہ تعلقات کا ذکر کیا۔اتنے میں مجھے یہ چٹ موصول ہوئی کہ یہ صاحب وہی ہیں جنہوں نے مباہلے کا چیلنج منظور کر لیا تھا اور حالت یہ ہوئی کہ کچھ دیر کے بعد دور سے اجازت لی کہ میں قریب نہ آکر بیٹھ جاؤں میں نے کہاں ہاں ضرور تشریف لائیں اور ہر بات کی تائید کر دی اور مباہلہ کا جو چیلنج تھا اس کا تو کوئی وہم اور خواب و خیال بھی ان کے دماغ میں باقی نہیں رہا۔پھر مجھ سے یہ وعدہ بھی لیا کہ میں خط لکھوں گا تو آپ مجھے جواب دیا کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جہاں تک میر اعلم ہے وہ احمدیت کے بہت ہی قریب آچکے تھے ایک ہی رات کی مجلس میں اور پھر دوسری رات بھی اپنے بعض دوسرے دوستوں کو ساتھ لائے اور تمام وقت بڑے ادب کے ساتھ اور خاموشی کے ساتھ انہوں نے مجلس میں شمولیت کی اور چونکہ پہلے دن کافی سوال کر چکے دوسرے دن پھر سوال نہیں کئے۔تو ایسے بھی لوگ ہیں کوئی نبی میں پیدا ہورہا ہے، کوئی دنیا کے کسی کونے میں، کوئی انڈونیشیا میں ، کوئی افریقہ کے ممالک میں بنیادی طور پر دیکھنا یہ ہے کہ یہ لوگ شریر اور خبیث فطرت کے ہیں یا سعید فطرت اور انجان اور سادے لوگ ہیں، لاعلم ہیں بیچارے اور طبیعت میں ایک شرافت ہے جس کی وجہ سے جو کچھ مانتے ہیں اس کی راہ میں، اس ایمان کی راہ میں اپنے آپ کو قربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔تو ایسے لوگوں کا مباہلے کے نتیجے میں ضائع ہو جانا یہ ہمارے لئے فائدہ مند نہیں بلکہ