خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 771 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 771

خطبات طاہر جلدے 771 خطبہ جمعہ ارنومبر ۱۹۸۸ء پیار سے سمجھانا چاہئے اور حکمت سے سمجھانا چاہئے اور ان لوگوں کو سمجھانا چاہئے جو ایسے اڈوں میں جا کر بیٹھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کوئی فرق نہیں پڑا۔میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ واقفین زندگی بھی ایسی حرکتوں میں مبتلا ہوتے ہیں ان سے بھی خدا کی تقدیر بالکل اسی طرح سلوک کرتی ہے۔دو قسم کے واقفین زندگی آپ کو نظر آئیں گے بعض ایسے ہیں جن کی اولا د در اولا د سلسلہ کی عاشق رہتی ہے اور ایک نسل کے بعد دوسری سلسلہ سے محبت کرتی چلی جاتی ہے۔ان کے متعلق آپ یقین جانیں کہ ان کے گھروں میں ان کے ماں باپ نے ہمیشہ اخلاص کی باتیں کی ہیں۔تکلیفیں بھی اٹھائی ہیں، دکھ بھی اٹھائے ہیں سخت تنگی ترشی میں بھی گزارے کئے ہیں اور بعض دفعہ واقعہ بعض کارکنوں نے ان کے ساتھ ناحق سلوک بھی کیا ہو گا لیکن ہمیشہ صبر کے ساتھ ان باتوں کو برداشت کیا اور گھر میں ہمیشہ ایسی باتیں کی جو سلسلہ کی محبت بڑھانے والی ہیں اور قربانی میں ایزاد کرنے والی ، قربانی کو بڑھانے والی باتیں کرتے رہے۔چنانچہ ان کی اولادیں پھر ان کی اولا دیں آپ دیکھیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جہاں بھی آپ کو نظر آئیں گی ، جس حال میں بھی آپ ان کو دیکھیں گے یہ سلسلہ کے عاشق ہوں گے ، سلسلہ کی محبت میں مبتلا اس کی خاطر جان ، مال، عزتیں قربان کرنے والے۔بعض واقفین زندگی ایسے بھی ہیں بدنصیبی کے ساتھ جنہوں نے ساری عمر تو دین کی خدمت کے لئے وقف کیا اپنے آپ کو اور خدمتیں بھی کیں لیکن کبھی کسی تحریک جدید کے افسر سے ناراض ہو کر اور کسی سلوک کے نتیجہ میں ان کے دل میں ہمیشہ ایک انتقام کی آگ بھڑکتی رہی اور چونکہ حسد سے جو دانشوری پیدا ہوتی ہے وہ جہنم سے ہٹانے والی نہیں بلکہ جہنم کی طرف لے جانے والی ہوا کرتی ہے۔آگ کی اولاد ہمیشہ آگ ہو گی ، آگ کی جنت نہیں پیدا ہوا کرتی۔اس لئے پھر ان کے گھروں میں وہ جہنم پیدا کرنے کے کارخانے قائم ہو جاتے ہیں۔اپنے گھر میں بیٹھ کر دبی زبان سے شکوے کرتے ہیں ہم سے یہ ہوا، ہم سے وہ ہوا، ہماری فلاں جگہ تقرری ہونی چاہئے تھی ، فلاں شخص نے ظلم کی راہ سے اور پارٹی بازی کے نتیجہ مجھے نیچا دکھانے کے لئے یہ کیا وہ کیا۔اب اولاد جب اپنے باپ کی مظلومیت کے قصے سنے گی تو اس کا رد عمل وہاں تک نہیں رہے گا جہاں تک اس کے باپ کا رد عمل تھا۔اس کے باپ کے اوپر اس کے ذہن کی بالغ قوتوں نے قبضہ کیا ہوا ہے اور اس کے جو ردعمل ہیں وہ جس طرح گھوڑے کی باگیں ہاتھ میں ہوتی