خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 770 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 770

خطبات طاہر جلدے 770 خطبہ جمعہ ا ا ر نومبر ۱۹۸۸ء جو اپنے گھروں میں ایسے اڈے بناتے ہیں ان کے متعلق الا ماشاء اللہ خدا کی یہی تقدیر ظاہر ہوتی ہے کہ ان کی اولادیں ضائع ہو جاتی ہیں۔وہ خود جماعت سے منسلک رہ کر اپنی ساری زندگی گزاردیتے ہیں اور گھر میں جو وہ باتیں کرتے ہیں وہ ان کی اولادوں کو اس طرح روحانی بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہیں کہ اکثر ان کا انجام ہلاکت ہے۔چنانچہ ہم نے دیکھا ہے کہ بعض ایسے احمدی جو اپنی ذات میں ہمیشہ ذاتی طور پر جماعت سے منسلک رہے اور کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ بے وفائی کر کے الگ ہو جائیں گے لیکن انہوں نے اپنے گھروں میں اپنی کسی محرومی کے احساس کے نتیجے میں ہمیشہ جماعت کے عہدیداروں پر تنقید کی نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی اولادیں ضائع ہو گئیں یا جماعت کو چھوڑ گئیں یا وہ زبانیں جوگھر میں چھپ کر دراز کرتے تھے ان کو باہر گلیوں میں دراز کرنے کا موقع ملنا شروع ہوا، جرات ہونی شروع ہوئی اور کھلم کھلے جماعت کے باغی بن کر انہوں نے زندگیاں بسر کرنی شروع کیں یہاں تک کہ رفتہ رفتہ ان کو خدا کی تقدیر نے جماعت سے منقطع کر کے الگ پھینک دیا۔تو ایسے دانشوروں کو میں سمجھاتا ہوں ان کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہوش کرو۔قرآن کریم جب فرماتا ہے لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ (الانعام : ۱۵۲) اس کا یہی مطلب ہے۔تو یہ نہ سمجھو کہ قتل اولاد سے مراد یہ ہے کہ چھریاں چاقو لے کر ان کو قتل کرو گے۔تم اپنے ہاتھوں سے اپنی اولا دوں کو قتل کر رہے ہوتے ہو اور تمہیں کوئی احساس نہیں ہوتا کہ تم نے کتنا بڑا ظلم کیا ہے۔وہ لوگ جو خدمت دین میں مصروف ہیں جن کو تم اپنی تنقیدوں کا ظالمانہ نشانہ بناتے ہو ان پر تو خدا فضل فرمائے گا ان کی بدیاں دن بدن جھڑتی چلی جائیں گی ، ان کی کمزوریاں دور ہوتی چلی جائیں گی وہ ابرار کی حالت میں جان دیں گے مگر تمہارے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ تم کس حالت میں جان دو گے اور تمہاری اولادوں کے متعلق تو غالب احتمال ہے کہ وہ ایسی حالت میں جان دیں گی کہ خدا کے حضور مجرم ٹھہر چکی ہوں گی۔اس لئے یہ جو زبان کے چسکے ہیں ان کو معمولی نہ سمجھو۔ان سے بہت سے بدنتائج ظاہر ہوتے ہیں۔یہ ممکن ہے ، یہ احتمال موجود ہے کہ تم تو اپنا زہر اپنی اولاد پر اگلتے ہوئے ، ان کو ڈستے ہوئے خود تو بیچ تاب کھاتے ہوئے ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے رخصت ہو جاؤ اور بعد میں یہ اپنی بدنصیبی کی لکیر پیٹتے رہ جائیں اور کوئی ان کا علاج نہ ہو سکے۔اس لئے ان اڈوں کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے جماعتوں کو اور ان کو سمجھانا چاہئے۔محبت اور