خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 772
خطبات طاہر جلدے 772 خطبہ جمعہ ارنومبر ۱۹۸۸ء ہیں ایک حد تک اس کے ہاتھ میں رہتے ہیں لیکن اولاد کے ردعمل پر کوئی باگیں نہیں ہوا کرتیں پھر۔پھر یہ شتر بے مہار کی طرح جس طرف سر اٹھا ئیں نکل جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی اولا دیں ضائع ہو جاتی ہیں۔بعض لوگوں کے متعلق اطلاع ملتی ہے کہ ان کا بیٹا ہے اور فلاں جگہ کام کرتا ہے اس نے یہ، اس قسم کی ظالمانہ تنقید کی گویا کہ اپنی دانشوری کے اڈے بنائے ہوئے ہیں اور نئی نسلوں کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ان کا باپ ہے۔اس نے عمر بھر خدمت کی باہر بھی اور اندر بھی لیکن میں جانتا ہوں کہ اس میں یہ عادت ہے۔محلے کی مجلس میں وہ محلے کی انتظامیہ سے شا کی ہوگا ،فلاں سے شاکی ہو گا۔باہر سے محبت اور حسن سلوک سے باتیں کرے گا لیکن گھر میں بیٹھ کر وہ اندرونی دبی ہوئی آگ جو ہے وہ بھڑک اٹھتی ہے۔اب نام لینے کا تو کوئی مناسب موقع نہیں ہے نہ مناسب ہے کہ کوئی ایسے معاملات میں کسی کو نام لے کر نگا کرے۔کبھی ایک دو، تین، چار ایسے بہت سے ہوا کرتے ہیں ہمیشہ رہے ہیں۔وہ لوگ جنہوں نے قریب سے دیکھا ہے انتظامیہ ربوہ میں قادیان میں ان کو پتا ہے کہ کئی ایسے کچھ دیر رہے، کچھ کو تو مدینہ نے نکال باہر پھینک دیا اور انہوں نے اپنے آپ کو اس ماحول سے اتنا دور سمجھا ایسی اجنبیت دیکھی کہ بالآخر خود نکل کے چلے گئے۔کچھ ایسے تھے جن کی اولادیں تباہ ہو گئیں خودر ہے۔اسی طرح مختلف قسم کے بداثرات انہوں نے اپنے ہاتھوں سے خود کمائے۔تو ان لوگوں کو بھی میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کے خدا کی یہ تقدیر غیر مبدل ہے، اٹل ہے، یہ آپ کے ساتھ ضرور جاری ہوگی۔دانشور ضرور بنیں لیکن اس رنگ کے دانشور بنیں جس رنگ کے دانشور قرآن بنانا چاہتا ہے۔اللہ کی محبت کے نتیجہ میں جو دماغ صیقل ہوتا ہے اور فکر کو جلا ملتی ہے اس جلا کے طلب گار ہوں۔اس چمک کو خدا سے مانگیں کہ آپ کی تمام صلاحیتیں چمک اٹھیں اور جگمگانے لگیں لیکن الہی محبت میں اور تدبر میں اور فکر میں اور خدا تعالیٰ سے ایسا مزاج مانگیں کہ جس کے نتیجہ میں آپ جہاں بھی جائیں وہاں نیکیاں پیدا کرنے والے ہوں ،سلسلہ کی محبت بڑھانے والے ہوں تسکین قلب نصیب کرنے والے ہوں، جو آپ کے قریب آئیں ان کو سکینت قلب میسر ہو بجائے اس کے کہ ان کی بے چینی اور بے قراری بڑھنی شروع ہو۔لیکن اس کے باوجود جماعت کے ان ذمہ دار افسروں کی بھی بھاری ذمہ داری ہے جن کی وجہ سے بعض لوگ ٹھوکر کھا جاتے ہیں ان کی بے احتیاطی کی وجہ سے۔اگر چہ بذات خود میں اس میں کوئی عیب نہیں دیکھتا کہ اگر سلسلہ کے کسی افسر کو کوئی کا رملی ہے، کوئی سہولت ملی ہے تو پھر بچوں کو بھی اس میں شامل کر