خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 769 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 769

خطبات طاہر جلدے 769 خطبہ جمعہ ارنومبر ۱۹۸۸ء اسلامی اولی الالباب جو قرآنی اولی الالباب سے بالکل مدمقابل طاقتوں کی پیداوار ہیں اور ان کی سوچ اور طرزفکر کا نتیجہ سوائے مزید جلن کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔کسی انتظامیہ سے جھگڑا ہو گیا، کسی امیر سے ناراض ہو گئے معاف ہی نہ کیا اس کو پھر ساری عمر۔ہر وقت مجلسوں میں ان کے خلاف تنقید کبھی نہیں سوچتے کہ ان میں ایسے ایسے کارکن ہیں اس مجلس عاملہ میں، اس جماعت کے کارکنوں میں جنہوں نے ساری زندگیاں، اپنے سارے وقت کو جماعت کے لئے وقف رکھا ہے۔جب تم لوگ آرام کرتے تھے، جب تم سیر و تفریح میں لذتیں حاصل کیا کرتے تھے یا گھروں کی مجلسوں میں بیٹھتے ہوتے تھے یہ لوگ دن رات جماعت کے کام کی خاطر کبھی دفتروں میں کبھی لوگوں کے گھروں میں پھر کر چندہ اکٹھا کرتے ہوئے ، کبھی نصیحتیں کرتے ہوئے، کبھی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اور شغل ہی نہیں گویا کہ ساری زندگی جنہوں نے دین کی خاطر وقف کر دی اگر ان سے غلطیاں بھی ہو گئی ہیں تو تم کون ہوتے ہو خدا سے بڑھ کر ان پر پکڑ کرنے والے اللہ تعالیٰ تو ایسے بندوں سے عفو کا سلوک فرماتا ہے، درگز رکا سلوک فرماتا ہے اور تمہیں کسی ایسے احساس نے کہ کبھی مجھے انہوں نے اچھی نظر سے نہیں دیکھا تھا یا مجھ سے جو میں سلوک توقع رکھتا تھا وہ سلوک نہیں کیا تھا۔اس احساس نے ہمیشہ کے لئے ایک آگ میں مبتلا کر دیا ہے۔ہر وقت ان کے خلاف تخریبی کاروائیاں، ہر وقت ان کے خلاف تنقید ، زبان ہے کہ رکنے کا نام نہیں لیتی اور اردگرد کی جو نسلیں ہیں جو تمہارے پاس آکر بیٹھتی ہیں ان کو بھی ایک جہنم کی آگ میں مبتلا کرتے چلے جاتے ہو۔ایسے تنقیدی اڈے بعض دفعہ ظاہری بدیوں کے اڈوں سے زیادہ خطر ناک ہوتے ہیں بلکہ بسا اوقات ان سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ یہ ایمان کے مرکز پر حملہ کرتے ہیں، یہ زندگی کی روح پر حملہ آور ہوتے ہیں۔تبھی قرآن کریم نے اس مضمون کو اس طرح بھی بیان فرمایا کہ الْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ (البقرہ:۱۹۲) کر قتل سے تو ظاہری جسم مارا جاتا ہے لیکن بعض فتنے ایسے ہوتے ہیں جو روح کو قتل کر دیتے ہیں، ایمان کی جان لے بیٹھتے ہیں۔وہ ظاہری قتل سے زیادہ خطرناک ہیں ، زیادہ کبیرہ گناہ ہیں اور ان لوگوں کو یہ پتا نہیں لگتا کہ ہم کتنا بڑا کبیر گناہ کر رہے ہیں اور بے تکلف اپنی زندگیاں ان باتوں میں گلا دیتے ہیں۔سب سے زیادہ نقصان ان کو اپنے گھر میں پہنچتا ہے اگر یہ اپنے گھر کو اڈہ بنائے ہوئے ہوں۔بعض لوگ ایسے ہیں کہ وہ دوسروں کے گھروں میں جا کر ایسی مجلسیں لگاتے ہیں۔ان کے بچے تو بیچ بھی سکتے ہیں اگر وہ اپنے گھر میں ایسی باتیں نہ کریں لیکن وہ لوگ