خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 768 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 768

خطبات طاہر جلدے 768 خطبہ جمعہ ارنومبر ۱۹۸۸ء حسد اور انتقام کی پیداوار ہوا کرتے ہیں اور ان کی باتیں بھی حسد اور انتقام کی باتیں ہوا کرتی ہیں۔بعض دفعہ دبی زبان کے ساتھ بعض دفعہ کھل کر اور ایسی تنقید کو ہم عرف عام میں تخریبی تنقید کہتے ہیں۔ان کی مجلس میں جو جاتا ہے وہ اس تنقیدی تخریب کا شکار ہو جاتا ہے اور مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ میں یہ نقطہ بھی ہمارے سامنے کھول دیا گیا کہ ان کی حسد کی جو کیفیت ہے وہ ان کی صفت بن چکی ہے۔ان کا شر تو شاید کبھی کسی کو پہنچے کیونکہ اِذَا حَسَدَ میں بتایا کہ ہر وقت ان کا شران لوگوں کو نہیں پہنچتا جو محسود ہوتے ہیں جن سے یہ حسد کرتے ہیں لیکن خود ہمیشہ حسد کی حالت میں رہتے ہیں اور حسد فی ذاتہ ایک جہنم ہے، ایک آگ ہے جو ہر وقت دل کو بیقرار رکھتی ہے بریاں کرتی ہے، جلاتی رہتی ہے اور حاسد کبھی بھی اطمینان نہیں پاتا۔تو دیکھئے کہاں وہ دانشوری جو یہ شعور بیدار کرتی ہے کہ جہنم کے عذاب سے دور رہنا ہے، نہ اس دنیا کے جہنم میں مبتلا ہونا ہے نہ اس دنیا کی جہنم میں مبتلا ہونا ہے، خود بھی کوشش کرنی ہے خدا سے بھی مدد مانگنی ہے اور کہاں یہ کیفیت کے دانشوری جہنم کی پیداوار ہے دوسرے کے جلنے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ان کی باتیں بھی ایسی، ان کے طعنے بھی اسی قسم کے ، ان کی تنقید بھی ہلکی اور بازاری قسم کی اور اسی کے ذریعے یہ پھر اپنے دل کی تسکین حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔نقصان نہیں کر سکتے تب بھی زبان چلا کر اور اس کے چر کے لگا کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کچھ تسکین مل گئی ہے۔چنانچہ جو لوگ ان کے قریب بیٹھتے ہیں وہ بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ، ان کے گھٹیا لطیفوں سے لطف اندوز ہوتے بظاہر لیکن یہ سارے لوگ بے چین ہی رہتے ہیں ہمیشہ۔ربوہ میں مثال کے طور پر اگر کسی ناظر نے اپنی کا راستعمال کر لی سودالانے کے لئے تو ان لوگوں کو یہ خیال نہیں آئے گا کہ اس کی جو تعلیم ہے، اس کی جو پرانی قربانیاں ہیں ، جس قسم کی صلاحیتیں تھیں اس کو خدا تعالیٰ نے عطا فرمائی ہوئی تھیں وہ اگر یہ دنیا میں استعمال کرتا جس طرح دوسرے دنیا داروں نے کی ہیں تو جس حال میں اب رہ رہا ہے اس سے بیسیوں گنا بہتر حال میں ہوتا۔اگر جماعت نے اس کو کار دے دی اور اس نے اپنا سود الانے کے لئے بھی استعمال کر لی تو تمہیں جلنے کی کیا ضرورت ہے لیکن وہ اسی پر بھپکیاں کستے رہیں گے، اسی پر ان کا دل آگ میں جلتا رہے گا کہ ان کو یہ چیزیں کیوں نصیب ہوئیں، انہوں نے یہ کیوں استعمال کیا۔کسی کے گھر کے اچھے حالات دیکھے اس کا نام لندن ہاؤس رکھ دیا کسی کے گھر کا نام پیرس ہاؤس رکھ دیا۔اب یہ ہے اولی الالباب یعنی غیر