خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 749 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 749

خطبات طاہر جلدے 749 خطبه جمعه ۴ رنومبر ۱۹۸۸ء کی کوئی حیثیت نہیں ہوا کرتی ہے۔نہ میری کوئی حیثیت ہے نہ دوسرے کارکنان کی کوئی ہے۔پیغام میں برکت بھی اسی وقت پڑے گی جب آپ سامنے نظر آنے والے شخص کی بجائے اس کے پیچھے کھڑی ہونے والی طاقت پر نظر رکھیں گے اور اس احترام کے ساتھ پیغام کو دیکھا کریں گے کہ دراصل اللہ کے لئے ہے اور اللہ ہی کی طرف سے ہے اور اس پیغام کی جو نیک کاموں پر مشتمل ہے بنیاد کلام الہی میں ہے، قرآن کریم میں ہے۔اس پہلو سے جب آپ اس پر نظر ڈالیں گے تو آپ کے اندر غیر معمولی مستعدی پیدا ہو جائے گی کیونکہ دنیا میں تو اس کا بہت فرق پڑتا ہے۔بعض ہمارے دفتر کے افسران شکایت کرتے ہیں کہ جی ہم نے اتنی چٹھیاں لکھیں کوئی جواب نہیں آیا۔جب میں اپنے دستخط سے چٹھی بھیجتا ہوں تو فور جواب آتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اثر پڑتا ہے لیکن ان کی نظر مجھ تک آکے ٹھہر گئی ہے۔حالانکہ اتنی سی بات تو غالب کو بھی سمجھ آگئی تھی کہ : ہے پرے سرحد ادراک سے، اپنا مسجود قبلہ کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں (دیوان غالب صفحہ ۱۴۶) کہ تصورات کی جو حدیں ہیں ان سے بھی بہت پرے ہمارا معبود و مسجود ہے۔جواہل بصیرت لوگ ہیں جو معاملات کا عرفان رکھنے والے ہیں وہ قبلے کو قبلہ نما کہا کرتے ہیں اور جو کم نظر لوگ ہیں وہ قبلہ نما کو قبلہ نما سمجھتے ہیں۔قبلہ نماوہ پرندہ نما ایک کاغذی یا کسی اور ہلکے مادے کی بنی ہوئی چیز ہوا کرتی ہے جو ہوا کا رخ بتایا کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ اگر وہ سورج کے تعلق کو قائم کر کے اس کا رخ قبلے کی طرف معین کر دیا جائے تو اس وقت در حقیقت قبلہ نما کہلاتی ہے۔وہی چیز ہے جو ہوا کا رخ ماپنے کے لئے لوگ دیکھتے ہیں اگر اس کو باقاعدہ اندازے لگا کر قبلہ کی طرف رخ کر کے Fix کر دیا جائے تو اس وقت وہ صحیح معنوں میں قبلہ نما بنتا ہے۔تو غالب کے نزدیک قبلہ نماوہ نہیں ہے قبلہ نما تو قبلہ ہے کیونکہ قبلہ سے ہمیں خدا دکھائی دیتا ہے اور قبلہ نما اپنی ذات میں مقصود نہیں ہے۔پس دنیا میں خدمت دین کرنے والے قبلہ نہیں ہیں وہ قبلہ نما ہیں۔اس پہلو کے اوپر جب آپ نظر رکھتے ہیں تو ہر قبلہ نما ایک ہی جیسا ہو جاتا ہے۔اس پہلو سے ایک جیسا ہو جاتا ہے کہ جو کچھ وہ کہتا ہے اگر اس کا انحصار قرآن پر اور آنحضرت ﷺ کے کلام پر ہے تو بات اسی طرح مانی جائے گی جس طرح کوئی اور شخص اس بات کو کہے۔یہی وہ دراصل عرفان کا نقطہ ہے جو قرآن کریم ان الفاظ میں ہمیں سمجھاتا ہے کہ صلى الله