خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 748
خطبات طاہر جلدے 748 خطبه جمعه ۴ رنومبر ۱۹۸۸ء کیا اس کے جواب میں اگر لبیک کی آواز آئے بھی تو وہ بھی دو تین مہینے کے بعد سنائی دے گی اور ایسے حالات میں طبعا انسان غفلت کا شکار ہو جاتا ہے اور خصوصاً اگر غریب ملک ہو تو اس غریب ملک میں یہ کمی Communications یعنی رابطہ کی کمزوری اور بھی زیادہ بدنتائج ظاہر کرتی ہے۔تو بھاری تعداد افریقہ میں بسنے والے احمدیوں کی ایسی ہے جو بہت بھاری تعداد ہے جو اس تحریک جدید کے نظام میں شامل نہیں ہو سکی اور ان کو جب کہا بھی جائے تو نرمی سے کہنا پڑتا ہے کیونکہ بعض تو ایسے ہیں جوز کوۃ کے مستحق ہیں۔جو ز کوۃ کے مستحق ہیں وہ بیچارے تو عام چندہ بھی نہیں دے سکتے کجا یہ کہ ان سے طوعی چندے وصول کئے جائیں۔تو ہم پوری کوشش تو کر رہے ہیں کہ اقتصادی بہتری کے لئے بھی کچھ پروگرام جاری کریں اور یہاں انگلستان میں چوہدری انور احمد صاحب کا بہلوں کی صدارت میں ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو افریقہ کو اقتصادی لحاظ سے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے تجاویز پر غور کرتی ہے اور ان سے میں نے کہا ہے کہ ان تجاویز پر عمل درآمد بھی آپ ہی کی ذمہ داری ہے۔اس میں کچھ تجربہ کار بینکرز کچھ تاجر اس قسم کے لوگ شامل ہیں اور یہ وسیع مشوروں کے بعد بعض اقدامات تجویز کرتے ہیں لیکن یہ چیزیں ایسی ہیں جو بہت لمبا وقت چاہتی ہیں اور بہت سے سوالات ایسے تیار کر کے افریقہ کے ممالک میں بھیجتے ہیں جن کا جواب آنے میں ہی مہینوں لگ جاتے ہیں۔وہی کمزوری ہے جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔پھر بعض دوسری جماعتیں بھی ان کے سوالات کے جواب وقت پر نہیں دیتیں۔تو یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جن کے نتیجے میں ہماری رفتار پر برا اثر پڑتا ہے۔ضمناً میں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ جب مرکز سے چٹھیاں جائیں تو اس سے قطع نظر کے میرے دستخط سے گئی ہیں یا کسی احمدی خادم سلسلہ کے دستخط سے گئی ہیں یا میرے علاوہ کسی اور خادم سلسلہ کے دستخط سے گئی ہیں اس کا فوری جواب دینا چاہئے کیونکہ فوری جواب دینے میں روح یہ ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے پیغام کا جواب دے رہے ہیں۔وہ پیغام دینے والا خواہ معمولی کپڑوں میں ملبوس ڈا کیا ہو یا رجسٹر خط پہنچانے والا کلرک ہو اس کو تو آپ نہیں دیکھا کرتے یہ دیکھا کرتے ہیں کہ خط اصل میں کس کی طرف سے آیا ہے پیغام اصل میں کس کا ہے۔تو دینی الہی جماعتوں میں سب پیغام خدا کی طرف سے آتے ہیں۔جو پہنچانے والا ہے اس