خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 747
خطبات طاہر جلدے 747 خطبه جمعه ۴ رنومبر ۱۹۸۸ء کے ساتھ آپ اس راہ میں قدم آگے بڑھائیں گے خدا تعالیٰ نئے کام آپ کے سامنے پیش کرتا چلا جائے گا اور دعا کے بغیر ان نئے کاموں کو سرانجام دینے کی توفیق نہیں مل سکتی۔پس یہ وجہ ہے کہ میں ہمیشہ زور دیتا ہوں کہ چندہ دہندگان کی تعداد میں اضافہ کریں۔شروع میں وہ بے شرح سہی ، خواہ اپنی توفیق کے مقابل پر سوواں حصہ بھی ادا کر رہے ہوں لیکن فور اہر نئے شامل ہونے والے کو یا ہر نئے کمانے والے کو جماعت کے چندوں کے نظام میں شامل کرنا چاہئے اور اسی اصول کے تابع تحریک جدید کے چندہ دہندگان کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہئے۔اگر چہ ہر سال خدا کے فضل سے یہ اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے لیکن جماعت کی تعداد کے مقابل پر ابھی بہت کمی ہے اور یہ کمی زیادہ تر پاکستان کے بعض اضلاع میں جو پرانے اضلاع ہیں جہاں جماعتیں بھاری تعداد میں موجود ہیں لیکن تربیت کی کمی رہ گئی ہے اور افریقہ کے ممالک میں ہے اور انڈونیشیا میں بھی ابھی کافی کمی ہے باوجود اس کے کہ وہ گزشتہ چند سال سے نسبتاً تیز قدموں سے آگے بڑھ رہے ہیں۔جہاں تک افریقہ کے حالات کا تعلق ہے کچھ ان کی ایسی مجبوریاں ہیں جس کے پیش نظر ہم ان کو کچھ دیر کے لئے یہ سہولت دے سکتے ہیں کہ آپ رفتہ رفتہ کچھ تھوڑا تھوڑا قدم آگے بڑھائیں اور آپ سے ہمیں تیز آگے بڑھنے کی توقع نہیں ہے۔وجہ یہ ہے کہ افریقہ اس وقت بالعموم شدید اقتصادی بحران کا شکار ہے اور جہاں جماعتیں بہت کثرت سے ہیں وہاں اس بحران کے نتیجے میں صرف یہ تکلیف دہ بات سامنے نہیں آ رہی کہ احمدی انفرادی طور پر غریب ہیں بلکہ انتظامیہ کو افراد سے تعلق قائم کرنے کی راہ میں بے حد دقتیں ہیں۔یعنی یہاں تو آپ نے چندے کی تحریک کی اور ٹیلی فون کے ذریعے اسی دن ساری جماعت کو آپ نے مطلع کر دیا۔وہاں ٹیلی فون کا تو خیر سوال نہیں خط لکھ کر اطلاع دینے میں بھی بعض دفعہ مہینوں لگ جاتے ہیں اور سفر اختیار کرنا بہت ہی دقت طلب ہے۔سڑکیں خراب اور جو سواریاں ہیں وہ نا قابل اعتماد بعض دفعہ مہینوں پٹرول نہ ہونے کی وجہ سے با قاعدہ چلنے والی جو مسافر بسیں ہیں وہ بھی نہیں چلتیں۔ٹرک کھڑے رہ جاتے ہیں سامان لے کر ان کو جانے کے لئے توفیق نہیں ملتی۔دشوار گزار راستے جو دن بدن خراب ہوتے چلے جارہے ہیں۔بہت ہی بدحالی کی کیفیت ہے۔اس لئے باوجود اس کے کہ ملک کی انتظامیہ مخلص بھی ہے، وہ چاہتی بھی ہے کہ ہر آواز پر لبیک کہے لیکن رابطے کی مجبوریاں ایسی ہیں کہ وہ آواز ہی نہیں پوری طرح پہنچا سکتے آگے سے